رسائی کے لنکس

صوبے میں ’نیب‘ کو غیر مؤثر کرنے کے لیے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے پیر کو ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا، جس میں ’نیب منسوخی ایکٹ 2017 ترمیمی بل‘ منظوری کے لیے پیش کیا گیا

پاکستان کی اندرونی سیاست ان دنوں جس سنگین مسئلے کے گرد گھومتی نظر آتی ہے وہ کرپشن یا بدعنوانی ہے۔ وفاق میں اپوزیشن بدعنوانی کے مسئلے پر وزیر اعظم کو عدالتوں تک لے گئی ہے، تو وہیں اس کے ایک صوبے ’سندھ‘ کی اسمبلی میں پیر کو کرپشن روکنے کے لئے بنایا گیا قومی احتساب بیورو بل، اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود منسوخ کردیا گیا۔

صوبے میں ’نیب‘ کو غیر مؤثر کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے پیر کو ایک اہم اجلاس طلب کیا تھا، جس میں ’نیب منسوخی ایکٹ 2017 ترمیمی بل‘ منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں شروع ہوا تو وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے ’نیب آرڈی نینس 1999سندھ منسوخی کا بل‘ پیش کیا جسے ارکان کی جانب سے منظور کر لیا گیا۔

تاہم، سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کے خلاف اسمبلی میں شدید احتجاج کیا۔ یہاں تک کہ ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں ’نوکرپشن نو‘ اور ’گو زرداری گو‘ کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

اپوزیشن جماعتوں میں ایم کیو ایم، تحریک انصاف، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن شامل تھی۔ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہےکہ بل کے خلاف نہ صرف احتجاج کریں گے بلکہ عدالت تک جائیں گے۔

شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ہی حکومتی ارکان کی جانب سے بل منظور کرلیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی حکومت صوبائی اداروں میں نیب کی مداخلت کے خلاف ہے۔ اس کا موقف ہے کہ صوبے میں بدعنوانی سے متعلق مقدمات اور شکایات کے خاتمے کے لئے’سندھ احتساب کمیشن‘ کا قیام ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس دوران اسمبلی میں خطاب بھی کیا جس میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں خاص کر متحدہ قومی موومنٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اپوزیشن اپنی لیڈرشپ سے لاتعلقی اختیار کر چکی ہے، ہماری لیڈرشپ کے خلاف کچھ کیا تو جو بچی کچی لیڈرشپ ہے وہ بھی نہیں رہےگی‘‘۔

ادھر وزیر قانون ضیا الحسن لنجار کا کہنا ہے کہ’’ہم نیب آرڈیننس کو وفاق کی طرف سے سندھ کے معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ نیب عزت دار افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ جہاں مقدمہ، ضمانت اور سزا ضمانت ایک ہی ادارہ کرے۔‘‘

نیب آرڈیننس منسوخی بل کی منظوری سے نیب کا سندھ میں صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں، افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار ختم ہوگیا اور نیب سندھ میں صرف وفاقی اداروں کے حکام کے خلاف کارروائی کا مجاز ہوگا۔

دوسری جانب، ترجمان وزارت قانون اسلام آباد سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 143 کے مطابق صوبائی طور پر وفاقی قانون کو بدلا نہیں جا سکتا۔

ادھر اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بل کے سب سے سرگرم مخالف رہنما ایم کیو ایم، خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ نیب کی اصلاح کی ضرورت ہے، ہم یہ تسلیم کرتے ہیں۔ تمام اپوزیشن نے اس پر تنقید کی ہے کہ نیب سندھ میں اپنا کام کیوں نہیں کر رہی ہے۔ لیکن، '’جس طرح آج اسمبلی میں حکومت کی طرف سے اس قانون کو ختم کرنے اور آئین کو مسترد کیا گیا ہے وہ غلط ہے۔ آئین کسی کی ملکیت نہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG