رسائی کے لنکس

logo-print

اڑسٹھ سال بعد اقلیتی برادری کیلئے شادی کی رجسٹریشن کا بل منظور


شادی کے لئے دونوں فریق کی عمر 18سال ہونا لازمی ہے، جب کہ شادی کے لیے اُن کی رضامندی بھی لازمی ہوگی۔ شادی کی تقریب اور اس کی رجسٹریشن کے وقت کم از کم دو گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہوگا

سندھ میں آباد اقلیتی برادری، خاص کر ہندووٴں کا 68 سال سے بھی زیادہ مدت کے بعد بلاخر شادیاں رجسٹر کرانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سندھ اسمبلی ’ہندو میرج بل‘ کو اتفاق رائے سے منظور کرنے والی ملک کی پہلی اسمبلی بن گئی ہے۔

ہندو میرج بل 2016ء کے تحت ہندوٴ برادری کے ساتھ ساتھ ’جین‘ اور سکھ برادریوں میں ہونے والی شادیوں کی رجسٹریشن بھی اب لازمی ہوگی۔

سندھ کے سینئر وزیر تعلیم وپارلیمانی امور نثار احمد کُھہڑو کا کہنا ہے کہ ’’ہندو اور دیگر غیر مسلم برادریوں میں ہونے والی شادیوں کی رجسٹریشن چونکہ اب تک نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی ان شادیوں کا کوئی دستاویزی ثبوت ہوتا تھا، اس لئے اقلیتی برادریوں کو متعدد مشکلات درپیش تھیں‘‘۔

منظور ہونے والے بل کے مطابق اب شادیو ں کی رجسٹریشن یونین کونسل یا یونین کمیٹی یا یونین وارڈ یا کسی بلدیاتی ادارے کے تحت ہوگی۔

اس قانون کا اطلاق قانون کی تشکیل سے پہلے ہونے والی تمام شادیوں پر بھی ہو گا۔ اب تمام شادیاں قانون کے تحت رجسٹرڈ کرانا ہوں گی اور رجسٹریشن کے بعد ہر جوڑے کو شیڈول اے کے تحت ’سرٹیفیکیٹ آف میرج‘ بھی جاری کیا جائے گا، جبکہ اس کی ایک کاپی ریکارڈ کا حصہ ہوگی۔

بل کی منظوری کے ساتھ ہی پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ارکان سندھ اسمبلی کو ہندو میرج بل کے دیرینہ مسئلے کے حل پر خراج تحسین پیش کیا اور ہندو برادری کو اس کی مبارک باد بھی دی۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایک بیان میں کہا کہ ’’پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ یہ قانون بن سکے گا۔ پیپلزپارٹی نے ہندو برادری کے اس بنیادی مسئلے کو حل کرکے ملک کے تمام شہریوں کے مساوی حقوق دینے کی بات کو ایک مرتبہ پھر سچ کردکھایا ہے۔ ‘‘

ادھر سندھ اسمبلی میں بل پیش کرنے والے سینئر وزیر نثار احمد کھہڑو کا یہ بھی کہنا ہے کہ”حزب اختلاف کے ارکان اسمبلی اس بل کو قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاکہ قانون میں مزید بہتری لائی جاسکے اور اقلیتی برادری سے اس پر رائے لی جاسکے۔ تاہم، حکومت پہلے ہی ہندو برادری کے نمائندوں سے اس پر مشاورت کرچکی ہے ۔‘‘

قومی اسمبلی ہندوٴ میرج بل کو ایکٹ کی شکل دینے میں اپنا کردار ادا کرے گی جس کے تحت خواتین کو ہراساں کئے جانے سے متعلق بل اور شادی کے لئے درکار تمام شرائط کا قانون احاطہ کرے گا مثلاً:

شادی کے لئے دونوں فریق کی عمر 18سال ہونا لازمی ہے۔ دونوں فریق کی شادی کے لئے رضامندی بھی لازمی ہوگی۔ شادی کی تقریب اور اس کی رجسٹریشن کے وقت کم از کم دو گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہوگا۔

بل کے مطابق شادی ہونے کے 45دن کے اندر اندر اسے یونین کونسل یا یونین وارڈ میں رجسٹر کرانا بھی لازمی ہوگا۔

ہندو میرج بل کے تحت اگر کوئی فرد اپنی شادی رجسٹر کرانے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ایک ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG