رسائی کے لنکس

logo-print

اندرون سندھ گھوسٹ اسکولوں کی بھر مار


صوبہ سندھ کے شہر شکارپور میں واقع ایک گھوسٹ اسکول جہاں اب بھینسوں کا ڈیرا ہے۔

صوبہ سندھ میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق گھوسٹ اسکو لوں کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ ہے جن کے اساتذہ اور دفتری عملہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہا ہیے۔ تا ہم تعلیم سے متعلق ایک غیر سرکاری تنظیم کمیونٹی ڈیولپمنٹ فا ؤنڈیشن کے سروے کے مطابق ان اسکولوں کی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

گھوسٹ اسکول ، ایسے اسکول ہیں جو سرکاری کاغذات میں تو اپنا وجود رکھتے ہیں لیکن کئی وجوہات کی بنا پر عملی طورپر ان میں کام نہیں ہورہا۔ مثلاً جن دیہاتوں میں گھوسٹ اسکول موجود ہیں، وہاں کے بچے تعلم سے محروم ہیں اور جہالت کی وجہ سے قبائلی جھگڑوں میں اضافہ ہورہاہے۔ جب کہ گھوسٹ اسکول تعلیم کی شرح اور معیار کو گھٹانے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

گھوسٹ اسکول کا ایک کلاس روم
گھوسٹ اسکول کا ایک کلاس روم

ایک مقامی اخبار کے سروے کے مطابق اندرون سندھ کے علاقوں کند کوٹ،کشمور، گھوٹکی ،شکارپور،خانپور،گڑھی خیرو، جیکب آباد ،خیرپور،لکھی غلام شاہ و دیگر مقامات پر 2005ء سے 2010ء تک چار سو سے زیادہ افراد ان قبائلی تنازعات کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

کشمور سے حیدرآباد تک کے علا قوں میں قائم زیادہ تر سرکاری اسکولوں پرمقامی وڈیروں ،بااثر شخصیات نے قبضے کرکے انہیں جانوروں کے باڑوں، یا گوداموں میں تبدیل کردیا ہیے

صرف جیکب آباد ،شکارپور،اور کشمور میں گھو سٹ اسکو لوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔

شکارپور کے گوٹھ منظور علی شاہ کے رہا ئشی دیدار علی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کے گاؤں میں اسکول تعمیر ہوئے دس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن آج تک اس نے کسی استاد یا اسکول کے عملے کو وہاں آتے ہوئے نہیں دیکھا اور اب اسکول کی عمارت ہمارے وڈیرے کے جانور باندھنے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔ جبکہ ضلعی انتظامیہ کو شکایت درج کرنے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں نکلا۔

اندرون سندھ ایک گھوسٹ اسکول کا مقفل دروازہ
اندرون سندھ ایک گھوسٹ اسکول کا مقفل دروازہ

ضلع جیکب آباد میں 90 سے زیادہ گھوسٹ اسکول ہیں، تاہم ضلعی ایجوکیشن آفیسر کا کہناہے کہ نئی بھرتیاں ہونے کے بعد اکثر اسکول کھول دیے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر حاجی عبدلعزیز اوڈھو کا کہنا ہے کہ سرکاری کاغذات میں بہت سے اسکول ایسے ہیں جن کا زمین پر سرے سے کوئی و جود ہی نیں ہے تو اس سے کچھ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

ایک سماجی راہنما جان اوڈاں نے بتایا کہ گھوسٹ اسکولوں کی باعث ان علاقوں میں رہنے والے بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور ان کے والدین کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو دوردراز علاقوں میں قائم اسکولوں میں پڑھاسکیں۔

غیر سرکاری تنطیم کمیونٹی ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے صدر غلام محمد سومرو نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ جب دو سال قبل اسکولوں کا سروے کیا گیا تو ہماری تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ سفارشات دی تھیں کہ صوبہ سندھ کے معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کی ایک وجہ تعلیم کی کمی ہے جن میں قبائلی جھگڑے اور امن و امان جیسے مسائل شامل ہیں ۔رپورٹ میں اسکولوں فوری طور پر کھولنے پر زور دیا گیاتھا ۔۔لیکن دو سال گذرنے کے باوجود کوئی عمل نہیں کیا گیا۔

سندھ پرائمری اسکول ایسوسی ایشن کے راہنما انتظار چھلگری کا کہنا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کاغذات میں درج حکومتی عدادو شمارغلط ہیں کیونکہ اس میں سے اکثر اسکول سرے سے کوئی وجود ہی نہیں رکھتے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جن اسکولوں میں اساتذہ نہیں تھے وہاں پر نئی بھرتیوں کے بعداساتذہ تعینات کردیے گئے ہیں۔

صوبائی سیکریٹریٹ میں تعلیم سے متعلق ایک عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سندھ حکومت نے گذشتہ سال کے بجٹ میں فروغ تعلیم اور بند اسکولوں کو کھولنے کے علاوہ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے میعارکو بہتر کرنے کے لیے تعلیمی بجٹ چار ارب روپے سے بڑھا کر چھ ارب روپے کردیا تھا اور نئے صوبائی بجٹ میں تعلیم کے شعبے میں مزید اضافہ کی تجاویز زیر غور ہیں۔

XS
SM
MD
LG