رسائی کے لنکس

پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت تعلیم کا عزم اور رکاوٹیں


پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت تعلیم کا عزم اور رکاوٹیں

اٹھارھویں ترمیم کے تحت آئین میں آرٹیکل 25-A شامل ہونے کے بعد ریاست پر یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ ملک میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت اور لازمی تعلیم کو یقینی بنائے جو اب تک صرف ریاستی پالیسی کا ایک حصہ تھا۔

لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ تعلیم کے لئے مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد سے بھی کم بجٹ رکھ کر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے اور ان کے بقول اگر تعلیم سے محروم بچوں کو خواندہ بنانا ہے تو ترجیحات کو از سر نو ترتیب دیتے ہوئے تعلیم کے لئے فنڈز میں اضافہ لازمی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں دس سال کی عمر کے ساڑھے پانچ کروڑ بچے لکھ پڑھ نہیں سکتے اور پانچ سے نو سال کی عمر کے ستر لاکھ سے زیادہ بچے سکول نہیں جا رہے۔ یہاں تک کہ وفاقی دارالحکومت میں پرائمری سے ہائی اسکول کی سطح پر ایک لاکھ سے زیادہ یعنی اڑتیس فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

اب آرٹیکل 25-A کے نفاذ کے لئے وفاق اور صوبے اپنے اپنے ہاں قانون سازی کر کے قوائد و ضوابط مرتب کریں گے تاکہ خاص طور پر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والی تیس فیصد آبادی کے بچوںٕ کو درسی کتب اور یونیفارم سمیت مفت تعلیم حاصل ہو۔

پاکستان مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ایس ایم طفر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سلسلے میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے ایک بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے جو عنقریب پارلیٕیمان میں پیش کیا جائے گا اور اس میں اسکولوں کی تعداد بڑھانے کے علاوہ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ دارالحکومت کے تمام نجی اسکولوں میں غریب بچوں کی مفت تعلیم کا دس فیصد کوٹہ مختص کیا جائے۔

تعلیم کے سابق وفاقی وزیر اور حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار آصف احمد علی بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ملک میں تعلیم کے لئے دستیاب بجٹ اور وسائل اس قدر کم ہیں کہ آرٹیکل 25-A کے تحت اسکولوں سے باہر تمام بچوں کو تعلیم دینا ایک کڑا چیلنج ہو گا۔

تاہم ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اٹھارھویں ترمیم کے تحت کیونکہ اب تعلیم کی ننانوے فیصد ذمے داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں اور قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت انہیں پہلے سے زیادہ مالی وسائل بھی دستیاب ہوں گے ‘‘تو اب یہ صوبوں پر منحصر ہے کہ وہ کتنی مستعدی کے ساتھ قانون کے نفاذ کو یقینی بناتے ہیں ورنہ آرٹیکل 25-A۔ بلکل بے معنی ہو جائے گا’’۔

صوبے بہرحال آرٹیکل25-A کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کا کہنا کہ وفاق سے صوبوں کو وسائل اور اختیارات کی منتقلی سے تعلیم کی ترقی میں مدد ملے گی۔

پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت تعلیم کا عزم اور رکاوٹیں
پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لئے مفت تعلیم کا عزم اور رکاوٹیں

بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے ایک عہدیدار اکبر درانی کا کہنا ہے کہ ان کا صوبہ اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کم از کم غربت کی وجہ سے بچے تعلیم ترک نا کریں۔ ’’بلوچستان میں پرائمری کی سطح پر ڈراپ آوٹ ریٹ 42 فیصد ہے جس کی بنیادی وجہ غربت ہے یعنی سو میں سے 42 بچے تعلیم صرف اس لئے ترک کر دیتے ہیں کہ والدین کے پاس انہیں پڑھانے کے لئے پیسے نہیں ہوتے‘‘۔

صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم پیر مظہر الحق کا کہنا ہے کہ تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہونے سے رات و رات کسی انقلاب کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پختہ عزم اور موثر پالیسی سازی سے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تعلیم سے محروم بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کا آئنی حق مل سکے۔

پیلپز پارٹی سے تعلق رکھنے والی شہناز وزیر علی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 25-A کے مطلوبہ نتائج حکومت اکیلے حاصل نہیں کر سکتی بلکہ اس ضمن میں غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش اداروں اور ماہرین تعلیم کو متحرک کردار ادا کرنا ہو گا۔

ان کی رائے میں تعلیم سمیت ایک درجن سے زیادہ وزارتیں صوبوں کو منتقل ہونے سے بہت سے معاملات پراب دوہرے اخراجات نہیں ہوں گے اور اس بچت سے وسائل کو زیادہ موثر انداز میں بروئےکار لایا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG