رسائی کے لنکس

logo-print

موسم سرما میں سیلاب متاثرین کے لیے پناہ گاہوں کی ضرورت میں اضافہ


موسم سرما میں سیلاب متاثرین کے لیے پناہ گاہوں کی ضرورت میں اضافہ

صوبہ سندھ میں رواں سال اگست اور ستمبر میں غیر معمولی مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے 80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جن کی ہنگامی امداد جاری ہے لیکن اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی سیلاب متاثرین کی ضروریات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

انسانی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے نگران ادارے (UNOCHA) نے کہا ہے کہ جنوبی سندھ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کھڑے سیلابی پانی کے باعث ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور متاثرین کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ متاثرین میں سے صرف 35 فیصد خاندانوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے کہا کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو فوری طور پناہ گاہوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ سردی کی شدت سے محفوظ رہ سکیں جبکہ بعض علاقوں میں پانی اترنے کے بعد متاثرہ خاندانوں کا اپنے علاقوں میں واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے پاکستان میں دفتر برائے اُمورِ انسانی ہمدردی کی ترجمان حمیرا محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ خوراک کے بعد سب سے زیادہ توجہ متاثرین کو پناہ گاہ فراہم کرنے پر دی جا رہی ہے۔

’’ خوراک کے بعد دوسرے نمبر پر اقوام متحدہ شیلٹر پر رقم خرچ کر رہی ہے تاکہ متاثرین کو پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں۔ اقوام متحدہ کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے اور اپیل کے جواب میں صرف 23 فیصد فنڈنگ ملی ہے۔ ‘‘

حمیرا محبوب نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے اقوام متحدہ کی طرف سے35 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کے جواب میں اب تک صرف 8 کروڑ ڈالر کی رقم ہی ملی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے 60 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ زیر آب آیا تھا جب کہ 20 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق آٹھ سو سے زائد عارضی پناہ گاہوں میں اب بھی تین لاکھ افراد مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG