رسائی کے لنکس

سندھ میں دس برسوں میں قتل کے صرف 7 فی صد مجرموں کو سزائیں ہوئیں


سندھ ہائی کورٹ۔ فائل فوٹو

صوبہ سندھ میں دیرینہ خاندانی دشمنی، قبائلی دشمنی، غیرت کے نام، زمین کے تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، زیادتی، لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں قتل جیسے جرائم کا رونما ہونا معمول ہے۔

محمد ثاقب

سندھ میں دس سال کے دوران قتل کے 27 ہزار سے زائد نئے مقدمات درج ہوئے جس میں سے صرف سات فیصد میں ملزمان کو سزائیں مل سکیں۔ 52 فیصد مقدمات میں ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر رہا کردیے گئے۔

صوبے کی مختلف عدالتوں میں اب بھی تقریبا ساڑھے پانچ ہزار کے لگ بھگ مقدمات زیر سماعت ہیں۔

اس بات کا انکشاف صوبائی دارالحکومت کراچی سے جاری ہونے والی ماتحت عدلیہ کی دس سالہ کارکردگی سے متعلق سرکاری رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں دس سال کے دوران 27 ہزار 27 مقدمات درج کئے گئے۔ جن میں سے 52 فیصد یعنی 12916 مقدمات عدالتوں میں جھوٹے ثابت ہوئے اور عدم ثبوت کی بنا پر کسی ملزم کو ان مقدمات میں سزا نہ مل سکی۔ صوبے بھر میں قتل کے مقدمات میں سزاؤں کا تناسب محض 7 فیصد رہا۔ یعنی کل 1684 قتل کے مقدمات میں ملزمان کو سزائیں مل سکیں۔ تاہم انسداد دہشتگردی قوانین کے تحت درج مقدمات کی تعداد ان میں شامل نہیں۔

رپورٹ کے مطابق 6966 مقدمات ایسے ہیں جن میں پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی اور وہ سرد خانے کی نذر ہو گئے۔ ان مقدمات کی تعداد کل مقدمات کا 28 فیصد بتائی جاتی ہے۔

صوبے کی عدالتوں میں 13 فیصد یعنی 3220 مقدمات ایسے ہیں جن میں فریقین کے درمیان صلح کے نتیجے میں مقدمات کو نمٹا دیا گیا۔

ایک دلچسپ انكشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ رواں سال یعنی 2017 میں صوبہ سندھ میں قتل کے مقدمات کی تعداد گذشتہ دس برسوں کے مقابلے میں اب تک کم ترین ہے۔ سال کے پہلے چھ ماہ میں سندھ میں قتل کے اب تک 1050 مقدمات درج ہوئے ہیں۔ گذشتہ ایک عشرے کے دوران سب سے زیادہ قتل کے مقدمات سال 2011 میں درج ہوئے جن کی تعداد 3208 تھی۔

اس وقت بھی صوبے بھر کی عدالتوں میں قتل کے 5489 مقدمات زیر التواء ہیں۔ صوبے کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ضلع جنوبی اور صوبے کے ایک اور ضلع نوشہرو فیروز میں دس سال کے دوران قتل کے مقدمات میں 65 فی صد ملزمان عدم ثبوت پر بری قرار دے دیے گئے۔ اسی طرح کراچی کے ضلع غربی میں قتل کے 52 فی صد مقدمات ملزمان کی عدم گرفتاری کے باعث سرد خانے کی نظر کردیا گیا۔

فوجداری مقدمات کے ماہر محمد فاروق ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قتل جیسی سنگین وارداتوں میں سزا نہ ملنے کی بنیادی وجہ ناقص تفتیشی نظام ہے۔ روایتی تفتیش اور جدید خطوط کو یکسر نظرانداز کرنے کے باعث پولیس قتل جیسی وارداتوں کو عدالت میں ثابت نہیں کر پاتی۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت اور میرٹ کو نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے اکثر مقدمات میں تفتیش یک طرفہ ہوتی ہے۔ ایسے میں عدالت کے پاس پولیس کی تفتیش پر اکتفا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

دس سال کے دوران ضلع بدین میں سب سے زیادہ 35 فیصد قتل کیسز میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں جبکہ سب سے کم ضلع کشمور کندھ کوٹ میں ایک فیصد مقدمات میں سزائیں ملیں۔ اسی طرح ضلع جیکب آباد اور قمبر شہداد کوٹ میں قتل کے محض دو فیصد مقدمات ہی میں سزائیں دی جا سکیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ صوبے کے سب سے غریب اور صحرائی علاقے ضلع تھرپارکر میں قتل کے سب سے کم 22 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ دوسری جانب سب سے زیادہ قتل کے مقدمات کراچی کے ضلع جنوبی میں زیر سماعت ہیں جن کی تعداد 478 ہے۔

صوبہ سندھ میں دیرینہ خاندانی دشمنی، قبائلی دشمنی، غیرت کے نام، زمین کے تنازعات، جائیداد کے جھگڑوں، زیادتی، لوٹ مار اور ڈکیتی کی وارداتوں میں قتل جیسے جرائم کا رونما ہونا معمول ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قتل جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان کو سزائیں نہ ملنے کی ایک وجہ دیرینہ دشمنی کی بنا پر جھوٹے مقدموں کا اندراج بھی ہے۔ اس کے تدارک کے لئے بھی قانون تو موجود ہے لیکن بدقسمتی سے نفاذ نہ ہونے کے برابر ہے اور پھر انصاف کی فراہمی کا سست رفتار نظام بھی آڑے آ جاتا ہے۔ محمد فاروق ایڈوکیٹ کے مطابق پولیس کے تفتیشی نظام میں بہتری، ادارے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور میرٹ پر بھرتیاں کرکے قتل جیسے سنگین مقدمات بھی صرف 6 ماہ میں حل کئے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے فوجداری قوانین کے تحت قتل کے جرم کی کم سے کم سزا قید بامشقت اور زیادہ سے زیادہ سزا موت ہے لیکن تفتیش اور کرمنل جسٹس سسٹم میں خامیوں کے باعث اس کے باوجود بھی جرائم کی وارداتوں میں قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے.

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG