رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ میں نہری پانی کی چوری روکنے کے لئے نیم فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے صوبے سندھ میں نہری پانی کی چوری کو روکنے کے لئے سندھ رینجرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ صوبے کے نگران وزیر اعلیٰ فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ فیصلے کا مقصد پانی چوری کو روکنا اور نہروں کے آخری سرے تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

سیکرٹری آب پاشی سندھ جمال شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے کو پانی کی فراہمی میں بتدریج بہتری ہو رہی ہے۔ صوبے میں گڈو بیراج پر پانی کی آمد 81328 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے تاہم ضرورت سے اب بھی کم پانی صوبے کو مل رہا ہے۔

صوبے کی اہم نہر نارا کینال سمیت کئی ایس نہریں ہیں جہاں کے آخری سرے پر واقع زمینوں کو پانی نہیں پہنچ پا رہا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف ڈسٹریبیوٹریز پر پانی چوری ہو رہا تھا اور پولیس نے اب تک پانی کی چوری کی 50 مقدمات درج کئے ہیں۔ نگراں وزیر اعلیٰ سندھ نے پانی کی چوری روکنے کے لئے پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ نگراں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پانی کی چوری کی صورت میں مقدمہ براہ راست زمیندار وں پر قائم کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے محکمہ آب پاشی کو ہدایت کی کہ نہروں اور ڈسٹریبیوٹریز اور برانچز میں، جہاں سے پانی چوری ہو رہا ہے ان مقامات کی نشاندہی کرکے فہرست سیکرٹری داخلہ کو فراہم کی جائے۔ سیکرٹری داخلہ رینجرز کے ساتھ رابطہ کرکے انہیں ان مقامات پر تعینات کریں گے۔

پانی کی کمیابی کے باعث فصلوں کو پانی دینے کے لیے چوری کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بااثر زمیندار اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے زمینوں کے لئے پانی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن چھوٹے زمیندار اس ساری صورت حال میں پانی کو ترستے رہتے ہیں اور نتیجہ فصل کی خرابی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

اس سال کم بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سندھ اور بلوچستان میں زرعی مقاصد کے لئے پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ جس کے باعث صوبے میں چاول اور کپاس کی فصل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس سے قبل انڈس ریور سسٹم اتھارٹی بھی یہ خدشہ ظاہر کر چکی ہے کہ پانی کی کمی کے باعث خریف کی فصل شدید متاثر ہ ہو سکتی ہے۔ اسی بنا پر پنجاب اور سندھ میں مقررہ شرح سے کم پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور پھر ڈیمز کی تعمیر نہ ہونے سے پانی کی قلت بڑھتی جا رہی ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ جبکہ پانی کی کمی پر اعلیٰ عدالت نے ماہرین سے تجاویز بھی طلب کر رکھی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG