رسائی کے لنکس

logo-print

اسلحے کے خریدار ممالک میں پاکستان کا گیارہواں نمبر


(فائل فوٹو)

عالمی تنازعات اور سیکیورٹی پر تحقیق کرنے والے سوئیڈن کے ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اسلحہ درآمد کرنے کے لحاظ سے دُنیا کا گیارہواں بڑا ملک ہے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ (سپری) کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران بھارت دُنیا میں اسلحے کا دُوسرا بڑا خریدار تھا۔

تحقیق میں شامل ریسرچر سائمن ٹی ویزمین نے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے گزشتہ برسوں میں انہیں درآمد شدہ ہتھیاروں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔

رپورٹ میں پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ہونے والی جھڑپوں کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے روسی اور فرانسیسی ساختہ طیاروں اور اسلحے سے پاکستان کے اندر کارروائی کی۔ پاکستان نے امریکہ، چین، روس اور سوئیڈن میں تیار ہونے والے طیاروں اور اسلحے سے بھارت کے اندر کارروائی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلحہ فروخت کرنے والے دُنیا کے بڑے ملک کئی دہائیوں سے ان دونوں ممالک کو اسلحہ فروخت کر رہے ہیں۔

پاکستان نے ایف 16 طیارے امریکہ سے خریدے تھے۔ (فائل فوٹو)
پاکستان نے ایف 16 طیارے امریکہ سے خریدے تھے۔ (فائل فوٹو)

رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2014 جب کہ 2015 سے 2019 کے دوران دونوں ملکوں کی جانب سے اسلحے کی درآمد میں بالترتیب 32 سے 39 فی صد کمی بھی ہوئی۔

سپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گو دونوں ممالک نے مقامی سطح پر اسلحہ سازی کے کارخانوں کو وسعت دی ہے۔ لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک اب بھی دیگر ممالک سے جدید اسلحہ خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اور اس مد میں یہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی فوجی امداد معطل کرنے کے بعد پاکستان نے امریکہ کی بجائے چین سے زیادہ اسلحہ درآمد کیا۔

پاکستان نے 2010 سے 2014 کے دوران 51 فی صد جب کہ 2015 سے 2019 کے دوران 73 فی صد ہتھیار چین سے درآمد کیے۔

بھارت نے فرانس کے ساتھ رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ (فائل فوٹو)
بھارت نے فرانس کے ساتھ رفال طیاروں کی خریداری کا معاہدہ کیا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان نے 2010 سے 2014 کے دوران امریکہ سے 30 فی صد اسلحہ درآمد کیا جب کہ 2015 سے 2019 میں یہ شرح کم ہو کر 4.1 فی صد رہ گئی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ 10 سالوں کے دوران یورپی ممالک اور ترکی سے بھی اسلحے کی خریداری میں دلچسپی لی۔

ترکی سے 2018 میں پاکستان نے 20 جنگی ہیلی کاپٹرز خریدے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اٹلی اور ترکی سے اسلحہ خریدنے والے تیسرے بڑے ملک کے طور پر ہوتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG