رسائی کے لنکس

logo-print

دھرنے تو ختم ہوگئے لیکن نقصان کون بھرے گا؟


پاکستان کے وزیرِ مواصلات مراد سعید اور ان کے بعدوزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کو کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا ہے۔

توہین رسالت کے الزام میں گرفتار آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے دھرنے حکومت اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوگئے لیکن ان دھرنوں نے ایک بار پھر ملک میں قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان لگادیا ہے جس میں اسٹریٹ پاور کی مدد سے ملک کو کسی بھی وقت مفلوج کیا جاسکتا ہے۔

آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ملک بھر میں تین روز تک جاری رہنے والی ہنگامہ آرائی ختم ہوگئی ہے اور دھرنوں کے باعث بند ہونے والے تعلیمی ادارے کھل گئے ، ٹریفک کا نظام بھی بحال ہوگیا۔ اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام کوکلیئر کردیا گیا جس کے بعد جڑواں شہروں کے مکینوں کی جاں خلاصی ہوئی ۔

دھرنوں کے دوران مختلف مقامات پر تھوڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے، موٹروے پر شیخوپورہ کے قریب بسوں اور عام لوگوں کی گاڑیوں کو نظر آتش کردیا گیا، حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدہ میں کسی کی دل آزاری یا تکلیف پر معذرت تو کی گئی لیکن عام عوام کی املاک کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق کوئی شق نہیں تھی کہ یہ کون پورا کرے گا۔

پاکستان کے وزیرِ مواصلات مراد سعید اور ان کے بعدوزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے توڑ پھوڑ کرنے والے افراد کو کٹہرے میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ ادھرمراد سعید کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز پر اربوں روپے کا نقصانات ہوا۔

وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ پر امن مظاہرے کی آڑ میں شر پسند عناصر نے املاک کو اور نہتے شہریوں کو نقصان پہنچایا ،ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ علماء کرام نے کہا تھا کہ توڑ پھوڑ میں ہم نہیں شرپسند عناصر ملوث ہیں ان کی بات کا احترام کرتے ہیں۔

وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا پر شرانگیز اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایف آئی اے سائبر ونگ اور پی ٹی اے کوہدایت کی ہے جبکہ پنجاب حکومت اور دیگر اداروں سے نقصانات کی تفصیل طلب کرلی گئی ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی اس حوالے سے کہتے ہیں کہ اس نقصان کی ذمہ دار حکومت وقت ہے،انہوں نے کہا کہ توڑپھوڑ کرنے والے عناصر سے ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ ایسے حالات کا فائدہ اٹھا کر غیرملکی ایجنسیاں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں اور ایسی مذموم کارروائیاں کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس نقصان کی ذمہ دار ہے کیونکہ حکومت کو توہین رسالت کے معاملے میں ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا جس کی وجہ سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے اور وہ سڑکوں پر نکلے۔

دھرنے کے سبب ایک دن سڑکیں ،فیکٹریاں، دفاتر اور کاروباری مراکز بند ہونےسے ملکی معیشت کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے اس حوالے سے ماہر معیشت مزمل احمد کہتے ہیں کہ یہ نقصان اربوں میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جتنی بھی اکانومی ہے اس کے حساب سے ان تین دن میں پاکستان کو 60 سے70 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے کیونکہ پورٹ مکمل طور پر بند رہا، شہروں کے اندر کاروباری سرگرمیاں اور عام کام کرنے والے افراد کی نقل وحرکت محدود ہوجانے کے باعث ملکی معیشت کا نقصان ہوا ہے۔

دھرنوں کے خاتمہ کے لیے ایک اہم شرط آسیہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے حوالے سے تھی جس پر پیر اعجاز اشرفی کے مطابق ان کی جماعت معاہدے پر مکمل عمل کروائے گی اور آئندہ دو سے تین دنوں میں آسیہ کا نام ای سی ایل میں شامل ہوجائے گا۔

دھرنوں کے ختم ہونے کے بعد آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک سیکورٹی خدشات کی بند پر بیرون ملک روانہ ہوچکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں آسیہ کی مزید قانونی جنگ ابھی لڑنا ہے، ملک میں اس وقت افواہوں کا سلسلہ بھی لگاتار جاری ہے اور سابق گورنرپنجاب سلمان تاثیر کے صاحبزادے شان تاثیر کے بیان کےبارے میں ٹوئٹس ہوتے رہے جس میں مبینہ طور پر انہوں نے آسیہ کے کینیڈا جانے کا تذکرہ کیا لیکن بعد میں انہوں نے خود اس بات کی تردید کردی، صرف یہی نہیں بلکہ اس دھرنے کے خاتمے پر حکومت کی ناکامی یا کامیابی کے حوالے سے دھواں دھار سوشل میڈیا پوسٹس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG