رسائی کے لنکس

چھ فلسطینی قیدی اسرائیلی جیل توڑ کر فرار، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تلاش جاری


تفتیشی عملہ جیل کی دیوار کا معائنہ کر رہے ہیں

اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے ان چھ فلسطینی قیدیوں کی شدت سے تلاش شروع کر دی ہے جو پیر کے روز ملک کے جنوب میں سخت سیکیورٹی والی ایک اسرائیلی جیل توڑ کر فرار ہو گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کو دیہاتیوں نے اطلاع دی تھی کہ انہوں نے علی الصبح اپنے کھیتوں میں مشتبہ لوگوں کو دیکھا ہے۔ پولیس نے گلبوآ نامی جیل کے حکام کو چوکس کر دیا جنہیں بعد میں ان چھ قیدیوں کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا۔

فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں بند ان قیدیوں کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر قیدیوں کے اس فرار پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ان قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کی کوششوں سے فلسطینی اتھارٹی کا اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی سے متعلق ان انتظامات کا رابطہ متاثر ہو سکتا ہے جن سے فلسطینی بے حد نالاں ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر قیدیوں کے فرار پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، صدر محمود عباس کی فتح پارٹی نے اس کی تعریف کی ہے۔

اسرائیلی عہدیداروں نے کہا ہے کہ انہوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور علاقے میں گشت شروع کر دیا ہے۔

اسرائیل کے فوجی ریڈیو نے کہا ہے کہ فرار کی کسی مزید کوشش سے بچنے کے لئے 400 قیدیوں کو کہیں اور منتقل کیا جا رہا ہے۔

ریڈیو کے مطابق، یہ فلسطینی قیدی گلبوآ جیل سے، جو انتہائی محفوظ جیلوں میں سے ایک ہے، ایک سرنگ کے ذریعے مغربی کنارے کے شمال کی جانب فرار ہوئے۔

جیل حکام کی جانب سے جاری تصاویر اور رائٹرز پر دی گئی ایک ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیل کے سیل کے فرش پر ایک سوراخ کیا گیا جو ایک سرنگ کے ذریعے جیل کی باہر کی دیوار سے جا ملا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نفتالی بینٹ نے اسے ایک سنگین واقعہ قرار دیا ہے جس کے لئے اسرائیل کے متعدد سیکیورٹی اداروں کی کوشش درکار ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے کی ہر گھنٹے بعد تفصیل حاصل کر رہے ہیں جو یہودیوں کے نئے سال سے عین ایک روز پہلے پیش آیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کمانڈر شمعون بن شابو نے کہا ہے کہ علاقے میں ایمر جنسی کال سسٹم بڑھا دیے گئے ہیں، تاکہ ان قیدیوں سے متعلق کوئی اطلاع فوری دی جاسکے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ فرار کے بعد یہ قیدی 25 کلومیٹر کے فاصلے پر جنین کا رخ کر سکتے ہیں جہاں فلسطینی اتھارٹی کا معمولی کنٹرول ہے اور جہاں حالیہ ہفتوں میں عسکریت پسندوں کی کھلے بندوں اسرائیلی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پیر کی صبح اسرائیلی ہیلی کاپٹر جنین کی فضا میں پرواز کرتے دیکھے گئے ہیں۔

قیدیوں کے فلسطینی کلب نے جو سابقہ اور حالیہ دونوں طرح کے قیدیوں کا ریکارڈ رکھتا ہے، بتایا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی عمریں 26سے49 برس کے درمیان ہیں۔ ان میں ذکریہ زبیدی بھی شامل ہے جنھیں2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ زبیدی شہدائےالاقصیٰ بریگیڈ کا ایک ممتاز لیڈر ہے۔ اس بریگیڈ کو 2000 سے 2005 کے دوران فلسطینی بغاوت کے دوران فتح سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔

قیدیوں کے فلسطینی کلب کے مطابق باقی چار افراد عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

فلسطینی عسکریت پسند گروپ نے فوری طور پر جیل توڑنے کے اس واقعے کی تعریف کی ہے۔ اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے کہا ہے کہ اس واقعے سے اسرائیلی سیکیورٹی سسٹم، فوج اور پورے اسرائیلی نظام کو شدید دھچکہ پہنچے گا۔

حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا ہے،" قابض کے ساتھ آزادی کی جدوجہد جیل کے اندر اور اس حق کے حصول کے لئے باہر بھی جاری ہے۔"

حتیٰ کہ صدر عباس کی فتح پارٹی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر زبیدی کی ایک تصویر لگائی ہے اور سرنگ کو "آزادی سرنگ" کا نام دیا ہے۔

قیدیوں کے اس فرار سے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے لئے پریشانی ہو سکتی ہے جنہوں نے ایک ہفتہ پہلے ہی اسرائیلی وزیرِ دفاع سے ملاقات کی تھی جسے فریقین کے درمیان برسوں میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات قرار دیا جا رہا تھا۔

محمود عباس نے توقع ظاہر کی تھی کہ اس سے امن کا عمل دوبارہ شروع کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو سابق اسرائیلی صدر بنجمن نیتن یاہو کے دور میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے تعطل کا شکار رہا ہے۔

تاہم، محمود عباس کی فلسطینی اتھارٹی انتہائی غیر مقبول ہے کیونکہ فلسطینیوں کا خیال ہے کہ یہ حماس اور دیگر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتی ہے، کیونکہ دونوں انہیں خطرہ تصور کرتے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اگر فلسطینی اتھارٹی نے ان مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا تو اس کی قدر فلسطینیوں کے نزدیک اور کم ہو جائے گی۔

(اس خبر میں معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز سے لی گئی ہیں)

XS
SM
MD
LG