رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان نیا میزائل معاہدہ متوقع


جنوبی کوریا کے صدر لی میانگ باک نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کی حد بڑھانے کے لیے ان کے ملک اور امریکہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جس کا مقصد شمالی کوریا کی طرف سے ممکنہ خطرات کا توڑ کرنا ہے۔

صدر لی کی صحافیوں سے جمعرات کو شائع ہونے والی گفتگو کے مطابق ان کا ماننا ہے کہ میزائلوں کی 2001ء میں امریکہ کی طرف سے متعین کردہ موجودہ حد یعنی 300 کلومیٹر کو بڑھانے کے لیے ’’مستقبل قریب‘‘ میں معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لے گا۔

مسٹر لی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں کوریائی ملکوں کے درمیان اسلحے سے پاک علاقے میں ہونے والی کسی بھی ممکنہ جنگ کے تصور کی بنیاد پر مبنی ہے۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے نئے جدید میزائل اب جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بقول سیول اور واشنگٹن اب ’’سلامتی کے نئے ماحول‘‘ کی ضرورت پر متفق ہیں۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ کے وسط تک خلا میں نیا سیارہ چھوڑے گا۔ اس اقدام کے بارے میں اکثر کا ماننا ہے کہ یہ جوہری سرگرمیوں اور میزائل کے تجربات سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مسٹر لی نے اس اقدام کے بارے میں کہا کہ یہ شمالی کوریا کے نئے رہنما کم جونگ اُن کی ’’حکومت کی نئی آزمائش‘‘ ہوگا۔

XS
SM
MD
LG