رسائی کے لنکس

logo-print

مشترکہ صنعتی علاقے کے معاملے پر پیش رفت ہوئی ہے: جنوبی کوریا


لیکن جنوب کی وزارت یونیفیکیشن کا کہنا ہے کہ ان سات کارکنوں کی واپسی سے قبل غیر ادا شدہ ٹیکسوں اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملات حل کرنے میں مزید کچھ وقت درکار ہوگا۔

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ مشترکہ صنعتی زون سے اپنے بقیہ شہریوں کی واپسی کے بارے میں شمالی کوریا سے بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

لیکن جنوب کی وزارت یونیفیکیشن کا کہنا ہے کہ ان سات کارکنوں کی واپسی سے قبل غیر ادا شدہ ٹیکسوں اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملات حل کرنے میں مزید کچھ وقت درکار ہوگا۔

یہ کارکن آخری وقت میں پیدا ہونے والے تنازع کے باعث ان 43 جنوبی کوریائی باشندوں کے ہمراہ وطن واپس نہیں جا سکے تھے جو پیر کو اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ اگر یہ بقیہ شہری بھی واپس چلے جاتے ہیں تو اس سے دونوں حریف ملکوں کے درمیان آخری پرامن رابطہ بھی منقطع ہوجائے گا۔

شمالی کوریا نے گزشتہ ماہ اپنے اپنے 53 ہزار کارکنوں کو کائیسونگ کے اس صنعتی کمپلیکس سے واپس بلا کر جنوبی کوریا کے لیے یہاں داخلہ بند کردیا تھا۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی طرف سے اس پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف ردعمل کا حصہ تھا۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا کی طرف سے مشترکہ صنعتی کمپلیکس پر کام کی بحالی کے لیے مذاکرات کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد سیول نے یہاں سے اپنے کارکنوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

ایک روز قبل بھی سیول نے اصرار کیا تھا کہ ’’مذاکرات کا راستہ‘‘ اب بھی کھلا ہے۔
XS
SM
MD
LG