رسائی کے لنکس

logo-print

مزدوری کرنے والے بچوں کے لیے سلم سولر نائٹ اسکول


پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے روحیل ورنڈ نے پاکستان میں پہلی مرتبہ سلم سولر نائٹ سکول کی بنیاد رکھی ہے جہاں مزدوری کرنے والے بچے چٹائیاں بچھا کر سولر لائٹ لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

موجودہ دور میں دنیاکے کئی ترقی پذیر ممالک دہشت گردی کی زد میں ہیں جس کی وجہ سے وہاں غربت میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ممالک میں صحت ،تعلیم اور زندگی کی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے ۔خاص طور پر تعلیم کی کمی کی وجہ سے بہت زیادہ افراد مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔

پنجاب کے شہر فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے روحیل ورنڈ نے پاکستان میں پہلی مرتبہ سلم سولر نائٹ سکول کی بنیاد رکھی ہے جہاں مزدوری کرنے والے بچے چٹائیاں بچھا کر سولر لائٹ لگا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

Slum School 3
Slum School 3

​روحیل ورنڈ نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں تو سوال یہ ہے کہ ہم کب تک تنقید رینگے۔ ہمیں خود ایک ذمہ دار پاکستانی شہری کے طور پر کوشش کرنی چاہئیے کہ اس ملک کے پسماندہ بچوں کو خود پڑھائیں ۔میرے گھر کے پاس پسماندہ بستیاں تھیں۔ میں وہاں گیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے بچے پڑھنا چاہتے ہیں تو انہوں نے مثبت جواب دیا۔اس طرح پاکستان کے پہلے سولر سلم سکول کی بنیاد 2016 میں رکھی گئی۔

جنوبی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جہاں دہشت گردی اور غربت کے سبب شرح خواندگی کم ترین سطح پر ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے ۔اس شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہیں ۔پاکستان میں غربت کے وجہ سے زیادہ تر بچے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے اپنے خاندان کی کفالت کے لئے محنت مزدوری کرتے ہیں

روحیل ورنڈ کا کہناتھا کہ میرے کچھ دوست ، یونیورسٹی کے ٹیچرز اور آصفہ بھٹو سمیت مختلف لوگوں نےاپنی طرف سےرضاکارانہ طور پرمدد کر نے کی کوشش کی۔

یہاں ایسے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں جو انتہائی غریب ہیں ۔ ان کے پاس دو وقت کھانے کی روٹی نہیں ہوتی۔ غربت کی وجہ سے ان بچوں کو مجبوراً چائلڈ لیبر میں شامل ہونا پڑتا ہے ۔

ان کا مزید کہناتھا کہ یہ بچے دن بھر کماتے ہیں۔ مغرب کے بعد سلم سکول آجاتے ہیں۔ شعور کی کمی کی وجہ سے ہم ان کو روز مرہ کی زندگی گزارنے کا مہذب طریقہ سیکھاتے ہیں اور ساتھ ساتھ تائک وانڈو یعنی سیلف ڈیفنس سکھاتے ہیں۔

یہ حقیقت سب پر عیاں ہیں کہ کسی ملک کی ترقی کا دارومدار تعلیم یافتہ نوجوانوں پر ہے۔ دنیا میں ایسی بہت سی قومیں ہیں جنھوں نے تعلیم کے بل بوتے پر ترقی حاصل کی اور دنیا میں ایک مقام حاصل کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG