رسائی کے لنکس

logo-print

وینزویلا اور نکاراگوا کی اسنوڈن کو سیاسی پناہ کی پیشکش


امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ملازم اسنوڈن نے عام شہریوں کی ٹیلی فون کالوں اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کے پروگرام سے متعلق معلومات افشا کی تھیں۔

لاطینی امریکہ کے دو ممالک وینزویلا اور نکاراگوا نے امریکی انٹیلی جنس ادارے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی ’این ایس اے‘ کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کو سیاسی پناہ دینے کی پیش کش کی ہے۔

اسنوڈان ’این ایس اے‘ نگرانی کے راز افشا کرنے پر امریکہ کو مطلوب ہیں۔

وینزویلا کے صدر نیکولیس مدورو نے جمعہ کو کہا کہ اُنھوں نے اسنوڈن کو پناہ دینے کی پیش کش ’’انسانی ہمدردی‘‘ کی بنیاد پر کی ہے تاکہ اُنھیں امریکہ میں قانونی چارہ جوئی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا نے کہا کہ وہ اسنوڈن کو سیاسی پناہ اس وقت دی جائے گی ’’اگر حالات نے اس کی اجازت دی‘‘۔

یہ واضح نہیں کہ اسنوڈن کس طرح جہاز کے ذریعے ان دونوں میں ممالک پہنچیں گے۔

باور کیا جاتا ہے کہ اسنوڈن اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو کے ہوائی اڈے کے ’ٹرانزٹ ایریا‘ میں ہیں اور وہ وہاں سے کہیں اور نہیں جا سکتے کیوں کہ اُن کے پاس سفری دستاویزات نہیں ہیں۔

اسنوڈن نے ایک درجن سے زائد ممالک سے سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ تاہم امریکہ راز افشا کرنے پر اسنوڈن کو واپس اپنے ملک میں لانا چاہتا ہے۔

امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسی 'این ایس اے' کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن نے عام شہریوں کی ٹیلی فون کالوں اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کے پروگرام سے متعلق معلومات برطانوی اخبار 'گارڈین' کو فراہم کی تھیں۔

امریکہ نے اسنوڈن کے اس اقدام پر سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق عہدیدار کو امریکہ واپس لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

نیشنل سیکیورٹی ایجنسی ’این ایس اے‘ کا کہنا ہے کہ معلومات دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے جمع کی گئیں۔ اسنوڈن کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ امریکی شہریوں کو یہ معلوم ہو کہ حکومت اُن کی نگرانی کر رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG