رسائی کے لنکس

logo-print

سنوڈن نے مزید خفیہ معلومات افشا کردیں، رپورٹ


سنوڈن نے جو نئی دستاویز صحافیوں کو فراہم کی ہے اس میں امریکہ کی جانب سے جاسوسی کے خفیہ منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالرز کی تفصیلات ہیں

ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کے جاسوسی پروگرام سے متعلق نئی دستاویزات افشا کردی ہیں۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں دعویٰ کیا ہے کہ سنوڈن نے جو نئی دستاویز صحافیوں کو فراہم کی ہے اس میں امریکہ کی جانب سے جاسوسی کے خفیہ منصوبوں پر خرچ کیے جانے والے اربوں ڈالرز کی تفصیلات ہیں جو پہلی بار منظرِ عام پر آئی ہیں۔

اخبار کے مطابق صحافیوں کی دی جانے والے دستاویز میں ان 6ء52 ارب ڈالرز کی تفصیلات درج ہیں جو امریکہ نے 2013ء میں جاسوسی سے متعلق منصوبوں کے لیے مختص کیے ہیں۔

گو کہ امریکی حکومت ہر سال بجٹ میں انٹیلی جنس آپریشنز کے لیے مختص کی جانے والی کل رقم کا اعلان کرتی ہے لیکن 'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق سنوڈن کی جانب سے دی جانے والے 178 صفحات پر مشتمل دستاویز میں اس رقم کی تفصیلات درج ہیں۔

اخبار کے مطابق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کس خفیہ ایجنسی کو کتنی رقم دی جائے گی اور وہ اس رقم کو کن منصوبوں اور کاروائیوں پر خرچ کرے گی۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ رپورٹ ایڈورڈ سنوڈن نے فراہم کی ہے جو ان دنوں عارضی سیاسی پناہ ملنے پر روس میں مقیم ہیں۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سنوڈن کی جانب سے فراہم کی جانے والی دستاویز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے لیے مختص کل رقم کا بڑا حصہ 'سی آئی اے' کو دیا جاتا ہے اور 2013ء میں اس کے لیے 7ء14 ارب ڈالرز کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

اخبار کے مطابق یہ رقم 'نیشنل سکیورٹی ایجنسی' کے بجٹ سے تقریباً دگنی ہے جس کے لیے ایڈورڈ سنوڈن ماضی میں کام کرتے رہے ہیں۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی رپورٹ میں دستاویز کے حوالے سے امریکہ کی تمام 16 انٹیلی جنس ایجنسیوں کے فنڈز کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

تاہم اخبار نے کہا ہے کہ اس نے امریکی حکام کے مشورے پر بعض معلومات روک لی ہیں جن کی اشاعت سے امریکہ کے جاسوسی کے طریقوں اور ذرائع کے عام ہونے کا خدشہ تھا۔

سنوڈن نے دو ماہ قبل امریکی خفیہ ادارے 'نیشنل سیکیورٹی ایجنسی' کے دو خفیہ منصوبوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو تفصیلات جاری کی تھیں جس کے تحت لاکھوں امریکی شہریوں کی ٹیلی فون کالوں اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کی جارہی تھی۔

ان انکشافات کی اخبارات میں اشاعت سے قبل سنوڈن ہانگ کانگ آگئے تھے جہاں سے وہ 23 جون کو ماسکو پہنچے تھے۔ سنوڈن کا کہنا تھا کہ وہ ماسکو سے لاطینی امریکہ جانا چاہتے ہیں جہاں کے تین ملکوں نے انہیں سیاسی پناہ کی پیش کش کر رکھی تھی۔

لیکن امریکہ کی جانب سے سفری دستاویزات منسوخ کیے جانے کے بعد ماسکو ایئر پورٹ کے 'ٹرانزٹ ایریا' میں 39 روز تک مقیم رہنے کے بعد روس نے سنوڈن کو عارضی پناہ دے دی تھی۔

امریکی حکام نے کئی بار روسی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سنوڈن کو اس کےحوالے کرے تاکہ ان کے خلاف غداری اور جاسوسی کے الزامات کے تحت قانونی کاروائی کی جاسکے۔
XS
SM
MD
LG