رسائی کے لنکس

logo-print

اسنوڈن کی انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملاقات کی دعوت


روسی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ اسنوڈن کی متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں سے ٹرانزٹ زون میں ملاقاتیں طے تھیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے انسانی حقوق کے گروپوں سے ماسکو کے ہوائی اڈے پر ملاقاتیں کی ہیں۔

گزشتہ تین ہفتوں سے اس ہوائی اڈے پر ہی مقیم اسنوڈن کسی ملک میں پناہ کا منتظر ہے۔

روسی حکام نے جمعہ کو بتایا کہ اسنوڈن کی متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل کے نمائندوں سے ٹرانزٹ زون میں ملاقاتیں طے تھیں۔

30 سالہ اسنوڈن نے امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے نگرانی کے پروگرام کی خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔

امریکہ نے اسنوڈن پر جاسوسی کے الزامات کے تحت اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے لیکن روس نے اسے امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسنوڈن کو ملک چھوڑنے کا کہہ رکھا ہے۔

وینزویلا، نکاراگوا اور بولیویا کے رہنماؤں نے اسنوڈن کو پناہ دینے کی پیشکش کر رکھی ہے۔ لیکن اسنوڈن کا ماسکو سے نکلنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ امریکہ نے اس کا پاسپورٹ منسوخ کردیا ہے۔

دریں اثناء امریکہ اور چین کے درمیان اسنوڈن کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی خفیہ ادارے کا یہ سابق اہلکار گزشتہ ماہ ہانگ کانگ سے ماسکو روانہ ہوا تھا۔

جمعرات کو واشنگٹن میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اقتصادی مذاکرات کے بعد امریکی نائب وزیرخارجہ ولیم برنز کا کہنا تھا کہ چین کی طرف سے اسنوڈن کی امریکہ کو حوالگی سے انکار کے فیصلے پر ان کے ملک کو مایوسی ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر براک اوباما نے جمعرات کو چینی وفد سے بات چیت میں اسنوڈن کے معاملے پر چین کے طریقہ کار پر مایوسی کا اظہار کیا۔

چین کے اسٹیٹ کونسلر یانگ جیئچی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ہانگ کانگ کی طرف سے صورتحال سے نمٹنے کا طریقہ کار ان کی پہنچ سے باہر تھا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژینہوا نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ’’ اس معاملے پر ایک دوسرے کو الزامات دینے کی بجائے ‘‘ بیجنگ نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر سائبر اسپیس کے معاملات پر ’’مثبت رویہ اپنایا‘‘ ہے۔
XS
SM
MD
LG