رسائی کے لنکس

logo-print

ناکام ہائی جیکر قیدیوں کی رہائی چاہتا تھا: تفتیش کار


اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ناکام ہائی جیکر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ کیے گئے، تو وہ طیارے کو دھماکے سے اُڑا دے گا

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین کا شخص جس نے ترکی جانے والی کمرشل فلائیٹ کو روس کے شہر سوچی لے جانے کی ناکام کوشش کی، جہاں سرمائی اولمپکس منعقد ہو رہے ہیں، اپنے ملک میں قیدیوں کو رہا کرانا چاہتا تھا۔

یوکرین کے سلامتی کے ادارے کے چھان بین سے متعلق محکمے کے اہل کار، میکسم لینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ہائی جیکنگ کی کوشش کرنے والے شخص نے دھمکی دی تھی کہ اگر اُن کے مطالبات پورے نہ کیے گئے، تو وہ طیارے کو دھماکے سے اُڑا دے گا۔

اُن کے بقول، اُڑان کے ایک گھنٹے کے بعد، طیارے کا ایک مسافر اٹھا اور کاک پٹ میں داخل ہوا۔ اُس کا مطالبہ تھا کہ طیارے کا رُخ سوچی کی طرف موڑا جائے، جہاں، اُس کے بقول (صدر) یانوکووچ اور (صدر) پیوٹن موجود ہیں، جن کے ہاتھ خون آلود ہیں۔ اور اُس نے مطالبہ کیا کہ ’یوکرین میں سارے قیدیوں کو رہا کرایا جائے‘۔

جہاز میں 110 مسافر سوار تھے، اور یوکرین کے شہر خارکوف سے استنبول جا رہا تھا، جب ہائی جیکنگ کی کوشش کی گئی۔

لینکو نے کہا کہ جہاز کے عملے نے مشتبہ شخص کو خاموش کرانے اور روکنے کی کوشش کی، اور ترک فضائیہ کے دو جہازوں کی مدد سے، طیارہ استنبول کے ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گیا۔

حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واقع کے وقت مشتبہ شخص نشے میں دھت تھا۔

یوکرین کے صدر وکٹر یناکووچ جمعے کے روز اولمپک گیمز کی افتتاحی تقریب کے باہر، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بحرانی نوعیت کی بات چیت میں مصروف تھے۔ یوکرین دو ماہ سے زائد عرصے سے حکومت مخالف احتجاج کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث سینکڑوں گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، جب کہ دیگر افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔

دنیا بھر میں حکام اولمپکس سے متعلق دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر، ’ہائی الرٹ‘ پر ہیں، جب کہ تشویش کا زیادہ تر سبب روس کے قفقاز خطے کے شمالی علاقے کے اسلام پسند انتہا پسندوں کی طرف سے لاحق ہے۔
XS
SM
MD
LG