رسائی کے لنکس

اسمبلی میں سب نے تقریریں کیں، لیکن سوشل میڈیا پر دھوم بلاول کی


بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کر رہے ہیں۔ 17 اگست 2018

آج قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے چناؤ کے بعد منتخب وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی راہنماؤں نے تقریریں کیں لیکن سوشل میڈیا پر جس تقریر کو سب سے زیادہ پسند کیا جا رہا ہے وہ ہے بلاول بھٹو کی۔

آج وزارت اعظمٰی کے انتخاب میں عمران خان کی کامیابی کے بعد تینوں بڑی پارٹیوں کے راہنماؤں، نو منتخب وزیر اعظم عمران خان، ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تقارير کیں۔

سوشل میڈیا پر صحافی، تجزیہ نگار اور صارفین اس تینوں تقارير پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔ ایسے میں تینوں بڑے راہنماؤں میں بلاول کی تقریر کو خوب پذیرائی دی جا رہی ہے۔

عمران خان وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے ہیں۔
عمران خان وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے ہیں۔

اینکر اور تجزیہ نگار اجمل جامی نے لکھا کہ بلاول کی تقریر بلا مبالغہ تمام مقررین سے بہتر تھی، حتیٰ کہ عمران خان کو ڈیسک بجا کر داد دینا پڑی۔ یعنی ایک طرف مایوس کن تقارير اور دوسری جانب مسحور کن تقریر۔ شہدا کا ذکر کپتان نے کیا نہ شہباز نے۔

خرم حسین نے کہا کہ بلاول صحیح معنوں میں’ ہیڈ آف دی اسٹیٹ‘ لگ رہے تھے۔

حیدر عباسی نے کہا کہ بلاول نے عمران خان کو’ پی ایم سلیکٹ‘، یعنی کسی کا چنا ہوا وزیرِ اعظم کہا مگر اس پر عمران خان نے ڈیسک بجایا اور بلاول کے طنز کو بالکل سمجھ نہ سکے۔

​اینکر کاشف عباسی نے لکھا کہ بلاول کی تقریر بہت عمدہ تھی، انہوں نے مسائل اور چیلنجز کی درست نشاندہی کی۔

عمران خان کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگار مشرف زیدی نے کہا کہ جو تقریر قوم کو ساتھ ملانے والی ہونی چاہیے تھی وہ دھرنے کے دوران کے عمران خان کی یاد دلا رہی تھی۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ ن لیگ کے شرمناک شور شرابے کا عمران خان پر اثر ہوا ہے۔

صحافی مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ اگر عمران خان کی تقریر اس بات کا پیمانہ ہے کہ وہ دباؤ کو کیسے برداشت کرتے ہیں تو پھر تو ہم لوگوں کا کوئی حال نہیں۔ وزیرِ اعظم بنے ہوئے ان کا پہلا دن ہے اور وہ حزبِ مخالف کا مذاق اڑا رہے ہیں، دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اور ایسا کہیں سے بھی نہیں لگا کہ وہ تبدیلی لانے والے راہنما ہیں۔

اسد ہاشمی نے لکھا کہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ شاہ محمود قریشی آ کر عمران خان کی افتتاحي تقریر کر رہے ہیں۔

اپنی ایک اور ٹویٹ میں مہرین زہرہ ملک نے لکھا کہ دو اپوزیشن لیڈروں نے تقارير کر دیں ہیں۔ اب بلاول کو بلایا جائے تاکہ وزیرِ اعظم کی تقریر کی جائے۔

عمران خان کی تقریر ختم ہونے کے بعد سے اب تک جس شخص سے بات ہوئی سب کی متفقہ رائے تھی کہ عمران خان نے آج صبر کا دامن چھوڑا۔ وہ اشتعال میں آ گئے۔ ان کی شخصیت کا غصہ غالب آ گیا۔ وہ مسلم لیگ نواز کے گھاگ سیاست دانوں کے جال میں پھنس گئے اور تاریخ ساز لمحات میں اپنی بے مثال ساکھ بنانے کا موقع ضائع کر دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG