رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ رینجرز کی طرف سے مذہبی تفریق پر مبنی اشتہار


سندھ رینجرز کی جانب سے ڈان اخبار میں شائع ہونے والے ایک اشتہار میں سینیٹری ورکرز کے لئے صرف غیر مسلم کی شرط نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی ہے اور اس اشتہار پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ڈان اخبار کے 26 اگست کے شمارے میں سندھ رینجرز کی جانب سے نئی ملازمتوں کے اعلان کے لئے دئے گئے ایک اشتہار میں نان کامبیٹنٹ کیٹیگری میں جہاں درزی، نائی، بڑھئی، پینٹر، موچی اور ماشکی کی ملازمتوں کا اعلان ہے وہاں ان کے ساتھ سینیٹری ورکر کی ملازمت کے ساتھ صرف غیر مسلم کی شرط آویزاں ہے۔

اس پر سوشل میڈیا پر معروف انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے اخبار کی کٹنگ کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں صفائی کے کام کے لئے شرط ہے کہ وہ غیر مسلم ہو۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس کا مطلب ہے کہ ’’آپ کا کام گند ڈالنا اور ہمارا کام اسے صاف کرنا ہے۔‘‘

اس ٹویٹ کو اب تک دو ہزار مرتبہ ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے اور چار سو سے زائد بار اس پر لوگوں نے تبصرہ کیا ہے۔

اس کے جواب میں راجا قدیر نے لکھا کہ یہ آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے جس میں شہریوں کی برابری کو تحفظ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ایسے واقعات کی روک تھام کرنی چاہئے۔

ریحام خان نے ٹویٹ کی کہ چونکہ یہ اشتہار سندھ رینجرز کی جانب سے دیا گیا ہے اس لئے سیاسی حکومتوں کا اس میں زیادہ عمل دخل نہیں ہو گا۔ مگر پھر بھی اس پر مقامی سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنوں کو آواز اٹھانی چاہئے۔

انسانی حقوق کی معروف کارکن فرزانہ باری نے ٹویٹر پر لکھا کہ یہ بہت شرمناک ہے۔ جب اسلام اقلیتوں کو حقوق دیتا ہے تو ایسا کیوں نہیں کہ پاکستان کے مسلمان بھی اقلیتوں کو ان کے حقوق دینا شروع کر دیں؟

جہاں لوگوں نے سندھ رینجرز کو اس اشتہار پر تنقید کا نشانہ بنایا وہیں ڈان اخبار پر بھی تنقید کی گئی کہ اقلیتوں کو تفریق کا نشانہ بنانے والا اشتہار اخبار نے کیوں شائع کیا۔

پاکستان میڈیا واچ نامی اکاؤنٹ نے لکھا کہ جناح کے اخبار نے ایک نسل پرستانہ اور غیر انسانی قدروں پر مبنی اشتہار شائع کیا ہے جس میں صفائی کے کام کی شرط غیر مسلم ہونا ہے۔ اخبار محض چند ہزار کے لئے ایسے اشتہار چھاپتے ہیں، یہ بہت شرمناک ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انسانی حقوق کے معروف کارکن ڈاکٹر مہدی حسن نے اس اشتہار کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ غلط کام ہے اور تعصب کا اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جب قیام ہوا اور آزادی کے موقع پر جو باتیں بانی پاکستان نے کی تھیں یہ اس کے بالکل خلاف ہے۔ یہ بات کہ کسی ملازمت کے لئے آپ یہ سمجھیں کہ یہ مسلمان نہیں کر سکتے، انسانی اور جمہوری حقوق کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہونا یہ چاہئے کہ کسی بھی ملازمت کے لئے جو بھی لوازمات ہیں، جو بھی ان پر پورا اترے اسے وہ ملازمت دینی چاہئے۔ اس میں مذہب اور ذات پات کا بالکل خیال نہیں رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ صفائی ستھرائی کا کام صرف غیر مسلم افراد کے لئے ہے تو کیا آپ غیر مسلموں کو مسلمانوں سے کمتر سمجھتے ہیں کیونکہ صفائی ستھرائی کے کام کو عام طور پر کمتر سمجھا جاتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ جب آئین شرف انسانی اور برابر شہریت کی ضمانت دیتا ہے تو پھر ایسے اشتہارات کیوں شائع ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ اس کی وجہ رول آف لا یعنی قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں اور بھی باتیں ہیں جن پر عمل نہیں ہوتا۔ یہ ہماری ثقافت کا حصہ بن گیا ہے کہ بعض کاموں کے بارے میں ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ غیر مسلموں کو کرنے چاہئے اور مسلمانوں کو نہیں کرنے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک روایت بن گئی ہے اور اس کا تعلق قانون کی حکمرانی سے ہے۔ اگر قانون پر عمل کیا جائے تو پھر تمام شہریوں کو برابر سمجھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم جمہوریت کا دعوی کرتے ہیں تو ایسے میں سیاسی جماعتوں کو اس پر کھڑا ہونا چاہئے اور ان کو اسے اپنے ایجنڈے میں شامل کرنا چاہئے۔

اس سوال پر کہ سوشل میڈیا پر نشاندہی سے پہلے کبھی اس کے خلاف آواز کیوں نہ بلند ہوئی، ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ایسی باتوں پر پہلے کبھی ایسے نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کل ہی انسانی حقوق کے شکایات سیل کو اس کے بارے میں مطلع کریں گے اور یہ مطالبہ کریں گے کہ اس پر کوئی فیصلہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG