رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ: دیہاتیوں اور الشباب میں جھڑپ، کم از کم 15 افراد ہلاک


وسطی صومالیہ میں دیہاتیوں کی الشباب کے شدت پسندوں سے جھڑپ ہوئی، جس دوران کم از کم 15 افراد ہلاک ہوگئے۔ دیہاتی الشباب کی جانب سے بچوں کو عسکریت پسند کے طور پر بھرتی کے عمل کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔

مقامی ذرائع کے مطابق، عاد نامی گاؤں میں لڑائی کے دوران 10 شدت پسند جب کہ پانچ دیہاتی ہلاک ہوئے، جو علاقہ مرکزی گلمودگ انتظامی خطے میں واقع ہے۔

ایک دیہاتی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس کو بتایا کہ دو روز قبل مقامی عمائدین شدت پسندوں سے ملے اور بھرتی روکنے کے حوالے سے اُن کی مدد چاہی۔ بقول اُن کے ’’لڑائی اُس وقت شروع ہوئی جب اُنھوں نے مطالبہ کیا کہ دیہاتی اُن کی مدد میں لڑنے کے لیے بچوں کو بھرتی کرائیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ دیہاتیوں نے اپنے آپ کو منظم کیا اور مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ لیکن الشباب گاؤں میں داخل ہوگئی اور اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔

بقول اُن کے، ’’وہ اپنی طاقت کے زور پر کم سن بچوں کا اندراج کرا رہے ہیں، وہ مویشی لے جاتے ہیں۔ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی‘‘۔

گلمودگ کے علاقائی سلامتی کے معاون وزیر، مہد حسن محمد نے ’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس کو بتایا کہ دیہاتی اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG