رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ کے ایک اہم قصبے پر سرکاری فورسز کا قبضہ


صومالیہ کے ایک اہم قصبے پر سرکاری فورسز کا قبضہ

ایتھوپیا اور صومالیہ کی فورسز نے ملک کے جنوب مغربی حصے میں واقع ایک اہم قصبے سے عسکریت پسند تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کو نکال کر اس پر قبضہ کرلیا ہے۔

عینی شاہدوں نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ سرکاری فوجیوں نے بدھ کے روز الشباب کے عسکریت پسندوں کے قصبے بائیدوا سے نکل جانے کے بعد اس پر کسی لڑائی کے بغیر قبضہ کرلیا۔

یہ قصبہ 2009ء میں الشباب کے قبضے سے قبل صومالیہ کی عبوری حکومت کا ایک اہم مرکز تھا۔

ایتھوپیا ، کینیا اور افریقی یونین کی فورسز الشباب کے خلاف لڑائی میں صومالی حکومت کی مدد کررہی ہیں۔

عسکریت پسند تنظیم الشیاب نے ، جو القاعدہ کے ساتھ الحاق کرچکی ہے، 2007ء سے حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں سخت اسلامی قوانین کے نقاذ کی کوششیں کررہی ہے۔

الشباب کے قصبے میں وسطی اور جنوبی صومالیہ کے کئی علاقے ہیں ، لیکن حالیہ کچھ عرصے میں اسے دارالحکومت موگادیشو اور مرکزی شہر بلیدوین اور کئی دوسرے علاقے ان کے قبضے سے نکل چکے ہیں۔

بائیدواپر قبضہ لندن میں صومالیہ کے مستقبل پرمجوزہ بین الاقوامی کانفرنس سے ایک روز قبل ہوا ہے۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سمیت بہت سے عہدے دار شریک ہورہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG