رسائی کے لنکس

صومالی عہدیداروں کے مطابق فورسز کی طرف سے الشباب کے اڈے پر اچانک حملے میں شدت پسند تنظیم کے اسلحے کے ذخائر کو بھی تباہ کیا گیا۔

افریقن یونین اور صومالی فورسز کی کارروائی میں شدت پسند تنظیم الشباب کے 30 سے زائد جنگجو مارے گئے ہیں۔

صومالیہ اور کینیا کے عہدیداروں کے مطابق ملک کے جنوبی علاقے جوبالینڈ میں الشاب کے دو اڈوں کے خلاف ہفتہ کو شروع کی گئی کارروائی میں یہ جنگجو مارے گئے۔

جوبالیںڈ میں ڈپٹی کمانڈر محمد احمد ہیرسی نے کہا ہے کہ ہفتے کو فورسز کی طرف سے الشباب کے اڈے پر اچانک حملے میں شدت پسند تنظیم کے اسلحے کے ذخائر کو بھی تباہ کیا گیا۔

محمد احمد ہیرسی نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ الشباب کی ایسی گاڑیوں کو بھی تباہ کیا گیا جن پر طیارہ شکن گنز نصب تھیں۔ ’’میں اپنی آنکھوں سے 33 جنگجوں کی لاشیں دیکھیں۔‘‘

واضح رہے کہ اکتوبر 2011 میں صومالیہ سرحد کے قریب سے کئی سیاحوں کے اغواء کے بعد کینیا نے اپنی فوجیں صومالیہ میں بھیجیں جو 2012 میں باقاعدہ طور پر افریقن یونین فورس میں شامل ہو گئیں۔

الشباب کے حملوں میں کینیا کو بھی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوری 2016 میں الشباب نے کینیا کے ایک فضائی اڈے پر حملہ کر کے وہاں 100 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن کینیا کی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG