رسائی کے لنکس

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شدید حملے کے بعد کئی فوجی چھاونی چھوڑ کراپنی جانیں بچانے کے لے سرحد پار کینیا میں چلے گئے۔

صومالیہ کے قصبے بلدہاوو میں الشباب کے جنگجوؤں کے حملوں میں کم ازکم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر علاقائی حکومت کے سپاہی تھے۔

مزید چار افراد ملک کے دوسرے حصوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے بلدہاوو کے تین مقامات پر حملے کیے۔ یہ شہر صومالیہ اور کینیا کی سرحد پر واقع ہے۔

پہلے حملہ ایک فوجی مرکز پر ہوا جو شہر سے تقریباً 6 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ بلدہاوو کے میئر محمود عثمان نے وائس آف امریکہ کی صومالی سروس کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے فوجی مرکز میں داخل ہونے سے پہلے ایک خودکش کار بم دھماکہ کیا جس کی آڑ کی میں وہ مرکز کے اندر داخل ہو گئے۔

آزاد سیکیورٹی ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس حملے میں 14 فوجی ہلاک جب کہ 8 زخمی ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شدید حملے کے بعد کئی فوجی چھاونی چھوڑ کراپنی جانیں بچانے کے لے سرحد پار کینیا میں چلے گئے۔

فوجی مرکز کو روندنے کے بعد الشباب کے عسکریت پسندوں نے شہر کا رخ کیا اور پولیس کے مرکزی اسٹیشن پر دھاوا بول دیا۔ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔

قصبے کے میئر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے تیسرا حملہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز پر کیاا ور میئر کے دفتر کو دھماکے سے اڑا دیا۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ الشباب کے جنگجوؤں اور صومالی فوجیوں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ ہوا اور فوجیوں کی مدد کے لیے کینیا کی فورسز نے عسکریت پسندوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی۔ عسکریت پسند لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد شہر چھوڑ کر چلے گئے۔

ایک اور دہشت گرد حملے میں موغادیشو سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر بلد نامی قصبے میں عسکریت پسندوں نے دو سپاہیوں کو گھات لگا کر ہلاک کر دیا۔

دارالحکومت موغادیشو میں شہر کی ایک پر ہجوم شاہراہ پر کار بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG