رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کے شدید حملے کا خطرہ


کینیا میں ایک بچہ اپنے کھیت میں سے ٹڈی دل کو اڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔

خشک سالی، غربت، دہشت گردی اور خوراک کی قلت کے شکار صومالیہ میں اب ایک اور بڑا خطرہ سر اٹھا رہا ہے اور وہ ہےٹڈی دل کی تیزی سے ہوتی ہوئی افزائش۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جس رفتار سے ٹڈیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اس کی گزشتہ 70 سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

صومالیہ کے ان علاقوں میں جہاں زیادہ تر القاعدہ سے منسلک انتہاپسند گروپ الشباب کا قبضہ ہے، اس وقت کروڑوں کی تعداد میں ٹڈیوں کے بچے پرورش پا رہے ہیں۔ جیسے ہی ان کے پر نکل آئیں گے، وہ ان علاقوں کی جانب پرواز شروع کر دیں گے، جہاں کچھ سبزہ موجود ہے۔ اور پھر ٹڈیوں کے یہ بڑے بڑے لشکر، اس خطے میں ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کے لیے سنگین صورت حال پیدا کر دیں گے، جو پہلے ہی خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔

صومالیہ نے ٹڈیوں کے خطرے کے پیش نظر ملک میں پہلے ہی قومی سطح پر ایمرجینسی نافذ کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے شعبے کے سربراہ ماریک لوکاک کہتے ہیں کہ اگر ہم نے اس خطرے پر ابھی سے قابو نہ پایا تو پھر ہمیں اپنی حالیہ تاریخ کے ٹڈی دل کے سب سے بڑے خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کے ترجمان البرٹو ٹریلو بارسا کا کہنا ہے کہ دنیا کو اس مسئلے کے شروع ہونے کی خبر ہونی چاہیے، کیونکہ آنے والے دو تین ہفتوں میں ٹڈیوں کے بچوں کے پر نکل آئیں گے۔ اور اس کے بعد توقع یہ ہے کہ وہ ہمسایہ ملکوں ایتھوپیا اور کینیا کی جانب پرواز کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔

موسمیات کے ماہرین نے آنے والے دنوں میں خلاف معمول شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی کی ہے جو آئندہ ہفتوں میں ٹڈیوں کے لشکروں کو اپنے ساتھ دوسرے علاقوں کے ہرے بھرے میدانوں کی طرف اڑا لے جائیں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے ٹڈیوں کی روک تھام نہ کی گئی تو سازگار موسم کی وجہ سے جون تک ان کی موجودہ تعداد میں 500 گنا تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ جون وہ زمانہ ہو گا جب خشک موسم شروع ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیا، ایتھوپیا اور مشرقی افریقہ کے کئی دوسرے ملک وہ فرنٹ لائن علاقے بننے والے ہیں جہاں ٹڈیاں لشکر در لشکر حملہ آور ہوں گی۔ ان علاقوں میں زیادہ تر لوگوں کی گزر بسر مال مویشی پالنے پر ہے۔ وہاں گھاس پھونس اور جنگلی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جو مویشیوں کے لیے خوراک کا کام دیتی ہیں۔ ٹڈیاں یہاں اترنے کے بعد انہیں چٹ کر جائیں گی اور مال مویشیوں کے لیے چارے اور خوراک کی قلت پیدا ہو جائے گی جس سے وہ کمزور پڑ جائیں گے اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی گزر اوقات اور آمدنی متاثر ہو گی۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت نے ٹڈیوں پر کنڑول کے لیے فوری طور پر 76 ملین ڈالر کی اپیل کی ہے۔ تاہم، اسے ابھی تک 19 ملین ڈالر ہی مل سکیں ہیں۔ باسکا کہتے ہیں کہ اب بس ٹڈیوں کے بچوں کے پر نکلنے کی دیر ہے، پھر ان پر قابو پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ٹڈیوں کے بچوں کے پر نکلتے ہیں، وہ چند ایک آزمائشی پروازوں کے بعد لشکروں کی صورت میں ان علاقوں کی جانب پرواز شروع کر دیتے ہیں جہاں ان کے کھانے کے لیے سبزہ موجود ہوتا۔ وہ اس وقت انتہائی بھوکے ہوتے ہیں اور ان کے کھانے کی رفتار ناقابل یقین ہوتی ہے۔ وہ آناً فاناً سب کچھ چٹ کر جاتے ہیں۔ پھر تقریباً ایک مہینے کے بعد وہ جوان ہو جاتے ہیں اور اپنی نسل آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ پھر نر اور مادہ کے ملاپ کے بعد ٹڈیاں انڈے دیتی ہیں جس کے بعد نر اور مادہ دونوں ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔ جب انڈوں سے بچے نکلتے ہیں تو ان کے والدین انہیں دیکھنے کے لیے دنیا میں موجود نہیں ہوتے۔ لیکن وہ تعداد میں اپنے والدین کے مقابلے میں کم ازکم 20 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG