رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ میں مزید فوجیں درکار ہیں: امریکی عہدے دار


ایک اعلیٰ امریکی سفارت کار نے کہا ہے کہ صومالیہ میں زیادہ فوجیں درکار ہیں ، جہاں اسلامی شدت پسند حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔

یہ بات امریکی نائب وزیر خارجہ جانی کارسن نے پیر کے روز یوگنڈا میںٕ ہونے والے بند کمرے کے اجلاس میں کہی۔ یہ ملاقات، افریقی یونین کے سربراہ اجلاس سےباہر ہوئی جِس میں قرنِ افریقہ اور مشرقی افریقہ کے متعدد رہنماؤں نے شرکت کی۔

کارسن نے کہا کہ صومالیہ بحری قزاقی اور دہشت گردی کی آجامگاہ ہے جہاں غیر ملکی عسکریت پسند اور شدت پسند سرگرم ِ عمل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ خود، اور افریقی رہنما جِن سے وہ مل چکے ہیں اُنھوں نے الشباب کو شکست دینےلیے فوج کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ شدت پسند گروپ صومالیہ کو بنیاد پرست اسلامی ریاست بنانے کا درپے ہے۔

افریقی رہنما ، صومالیہ میں افریقی یونین کی امن کار فوج میں توسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس میں اِس وقت یوگنڈا اور برونڈی کے 6000فوجی شامل ہیں۔ افریقی یونین اِس بات پر بھی غور و خوض کر رہی ہے کہ فوج کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ شدت پسندوں سے جارحانہ طور پرنبرد آزما ہو۔

XS
SM
MD
LG