رسائی کے لنکس

logo-print

سانحۂ پیرس: المیے سے فائدہ نہ اٹھائیں، تبدیلی لائیں


پیرس کے ملین مارچ میں شریک ہونے والے عالمی رہنماؤں میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کے اپنے اقدامات امن اور آزادی کے بنیادی تصورات سے متصادم ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں گزشتہ ہفتے دہشت گرد حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد انتہا پسندی کے خلاف اور مرنے والوں سے اظہارِ یکجتی کے لیے مغربی ملکوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں اتوار کو پیرس میں ہونے والی ریلی اب تک کا سب سے بڑا اور بے مثال مظاہرہ تھا جس میں کئی مذاہب، قومیتوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد شریک ہوئے اور تشدد اور عدم برداشت کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔

اس مظاہرے میں 40 سے زائد ملکوں کے سربراہان اور ان کے اعلیٰ نمائندے شریک ہوئے اور شدت پسندی کے خلاف اور رواداری کے حق میں اپنے موقف کا اظہار کیا۔ لیکن ان رہنماؤں میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کے اپنے اقدامات امن اور آزادی کے بنیادی تصورات سے متصادم ہیں۔

اتوار کو پیرس میں ہونے والی ریلی میں مصر، ترکی، روس، الجزائر اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں کے اعلیٰ حکام کی شرکت نے کئی لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا ہے کہ خود اپنے ملکوں میں آزادیٔ اظہار پر پابندیاں لگانے اور صحافیوں کو قید کرنے والے ان رہنماؤں کا پیرس واقعے پر اظہارِ ہمدردی کیا معنی رکھتا ہے۔

'رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز' کے مطابق آزادیٔ صحافت کےاعتبار سے ان ملکوں کا دنیا میں بالترتیب 159، 154، 148، 121 اور 118 واں نمبر ہے۔

مصر وہ ملک ہے جہاں عرب ٹی وی نیٹ ورک 'الجزیرہ' سے تعلق رکھنے والے تین صحافی ایک سال سے زائد عرصے سے قید ہیں جب کہ ملک کے منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف تین جولائی 2013ء کو ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد سے ان کے ہزاروں حامی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

ترکی میں صدر رجب طیب ایردوان کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکومت کے خلاف لکھنے کی پاداش میں 70 سے زائد صحافی جیلوں میں قید ہیں۔ کم و بیش یہی صورتِ حال فہرست میں موجود باقی ملکوں کی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی تجزیہ کاروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور نمایاں شخصیات نے پیرس میں ہونے والی ریلی میں ان ملکوں کے رہنماؤں کی شرکت پر اعتراض کیا ہے۔

'جارج واشنگٹن یونیورسٹی' کے پروفیسر اور بلاگر مارک لِنچ نے ان رہنماؤں کے اسی منافقانہ رویے کا اظہار اتوار کو اپنے ایک ٹوئٹ میں ان لفظوں میں کیا، "مجھے خوشی ہے کہ ان عالمی رہنماؤں کو اپنے اپنے ملکوں میں صحافیوں اور مخالفین پر تشدد سے اتنی فرصت مل گئی کہ وہ فرانس میں آزادیٔ اظہار کے حق کے تحفظ کے لیے ہونے والی ریلی میں شریک ہونے پہنچ گئے"۔

مذکورہ بالا ملکوں کے علاوہ بھی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد فرانس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والوں میں ایسے کئی عالمی رہنما شامل ہیں جن کی اپنی حکومتوں کا انسانی حقوق اور آزادیٔ صحافت سے متعلق ریکارڈ خاصا داغ دار ہے۔

جمعے کو فرانس میں حکام پیرس میں دو مختلف مقامات پر مسلح شدت پسندوں کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کو رہائی دلانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اسی دوران سعودی عرب میں ایک بلاگر رؤف بداوی کو سرِ عام کوڑے مارے جا رہے تھے۔

بداوی کو سعودی عرب کی ایک عدالت نے اسلامی نظامِ زندگی کی سعودی تشریح سے اختلاف کرنے پر ایک ہزار کوڑوں اور 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پیرس سانحے کی مذمت کرنے والوں میں اسلامی جمہوریہ ایران بھی شامل ہے جس نے ساتھ ہی 'چارلی ہیبڈو' میں شائع ہونے والے ان خاکوں کی بھی مذمت کی ہے جو دہشت گردی کے ان واقعات کا محرک بنے۔

لیکن اس مذمت کے علی الرغم ایرانی حکومت نے ایرانی نژاد امریکی صحافی جیسن رضایان کو بغیر کوئی معقول وجہ بتائے گزشتہ چھ ماہ سے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ ایران میں حکومت کی جانب سے اخبارات کی بندش اور سرکاری بیانیے کے برخلاف موقف اپنانے پر صحافیوں کے خلاف مقدمات اور انہیں سزائیں بھی معمول کی کارروائی ہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ پیرس سانحے کی مذمت کرنے والوں میں ایران کے ساتھ ساتھ لبنان میں اس کی اتحادی مسلح تنظیم'حزب اللہ' بھی شامل ہے جس کے اپنے ریکارڈ پر کئی خود کش حملے، مخالفین کے قتل اور لبنانی اور غیر ملکی صحافیوں کے اغوا کے واقعات موجود ہیں۔

فرانس کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں عجلت کا مظاہرہ کرنے والا ایک اور ملک اسرائیل ہے جس کے وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو پیرس ریلی کے دوران دیگر عالمی رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے صفِ اول میں دکھائی دیے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ اسرائیلی شہریوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بدترین دہشت گرد حملوں کا سامنا کیا ہے۔ لیکن وزیرِاعظم نیتن یاہو کی جانب سے پیرس سانحے کی آڑ میں اسرائیل کے لیے یورپی حمایت کے حصول کی کوششوں اور یورپی یہودیوں کو اسرائیل میں آباد کاری کی پیش کش پر کئی حلقوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔

پیرس میں اپنے خطابات کے دوران نیتن یاہو نے فرانس اور اسرائیل کو "دہشت گردی کا یکساں شکار" قرار دیا اور برملا کہا کہ دونوں ملک ایک جیسے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

لیکن اسرائیلی وزیرِاعظم یہ بھول گئے کہ فرانس نے گزشتہ نصف صدی سے کسی مغربی کنارے پر قبضہ نہیں کر رکھا اور نہ ہی فرانسیسی حکومت غزہ کی طرح کسی علاقے کا برسوں سے محاصرہ کیے ہوئے ہے۔

انہیں یہ تقابل کرتے ہوئے گزشتہ سال کی اسرائیل غزہ جنگ بھی یاد نہ رہی جس میں مرنے والے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تناسب میں ایک اور 20 کی نسبت تھی۔

اسرائیلی وزیرِاعظم نے پیرس کے مرکزی سیناگاگ میں خطاب کرتے ہوئے فرانس کی یہودی آبادی کو پیش کش کی کہ اگر وہ اسرائیل میں آباد ہونا چاہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یہ پیش کش کچھ اس انداز سے کی کہ جیسے فرانسیسی یہودی اپنے ملک کی نسبت اسرائیل میں زیادہ محفوظ رہیں گے۔

لیکن اسرائیلی وزیرِاعظم کی اس عجیب و غریب پیش کش پر صرف فرانس میں ہی نہیں خود ان کے ملک میں آباد یہودیوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

بعض فرانسیسی نژاد اسرائیلی شہریوں نے برملا کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل ہجرت کا فیصلہ صرف اس لیے کیا تھا کہ وہ یہودی ریاست میں زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ لیکن، ان کے بقول، نیتن یاہو کے حالیہ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے ہم یہود مخالف حملوں سے خوف زدہ ہو کر فرانس چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

تل ابیب میں آباد فرانسیسی نژاد یہودی کمیونٹی کے ایک رہنما نے اسرائیل کے صفِ اول کے ایک روزنامے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نیتن یاہو کے اس بیان پر سخت برہمی ظاہرکی ہے۔

ان کے بقول اسرائیلی وزیرِاعظم کا یہ بیان اس لیے انتہائی خطرناک ہے کہ اس سے یہودیوں کے دشمنوں کو یہ تاثر ملے گا کہ وہ ان پر حملےکرکے انہیں اپنے ملکوں سے بے دخل کر سکتے ہیں اور تشدد کاراستہ انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب کرسکتا ہے۔

کئی حلقوں کا خیال ہے کہ پیرس سانحے کی آڑ میں یورپ کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرنے کے بجائے بہتر ہوتا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم یورپ میں بڑھتے ہوئے اسرائیل مخالف جذبات کے سدِ باب کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتے۔

اگر انہیں یورپ میں آباد یہودیوں سے واقعی ہمدری ہے تو بہتر ہوتا کہ وہ مغربی کنارے کے مقبوضات میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے اور امن عمل کو تیز کرنے کے لیے فلسطینیوں کو بعض رعایتیں دینے کا اعلان کرتے۔

پیرس واقعے کے متاثرین کے ساتھ اتوار کو اظہارِ ہمدردی کرنے والے عالمی رہنماؤں میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شامل تھےجو اگر چاہتے تو اس موقع کا بہتر استعمال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ امن عمل کی بحالی کا اعلان کر سکتے تھے۔

لیکن ان میں سے کسی رہنما نے ایسا کچھ نہیں کیا اور پیرس ریلی کے بعد واپس اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ گئے جہاں کے حالات پیرس سے کہیں زیادہ ان کی توجہ، عزم اور جرات کے متقاضی ہیں۔

عین ممکن ہے کہ گزشتہ ہفتے فرانسیسی جریدے 'چارلی ہیبڈو' کے دفتر پر حملہ کرنے والے نوجوانوں کو اس انتہائی اقدام پر یا تو بین الاقوامی حالات سے پیدا ہونے والےا ندرونی خلفشار نے مجبور کیا ہو یا انہیں اس راہ پر ڈالنے والے مساجد کے شدت پسند امام ہوں۔

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ عراق پر امریکی حملہ، ابو غریب جیل میں بعض امریکیوں کا قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، شام کی خانہ جنگی اور خلیجِ گوانتانامو کے حراستی مرکز میں بغیر کسی قانونی کارروائی کے مشتبہ افراد کی برسوں تک حراست ایسے معاملات ہیں جو مستقبل میں بھی نوجوان مسلمانوں اور نو مسلموں کو جہادی نظریات کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

لیکن مغرب اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں آزادی ٔ اظہارِ رائے کے فروغ ، بین الاقوامی معاملات میں امتیازی رویوں کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات کو حل کر کے دنیا کو تباہی کی طرف لے جانے والے اس رجحان کو روکا جاسکتا ہے۔

عالمی رہنماؤں کو یہ حقیقت سمجھنا ہو گی کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر جلوس نکالنا اور نعرے لگانا بہت آسان ہے لیکن اپنے ملکوں میں آمرانہ طرزِ حکومت کے بجائے جمہوری رویوں کو فروغ دینا اور مثالی حکومتیں قائم کرنا ایک مشکل راستہ ہے۔

اور یہی فرانس کے صدر فرانسس اولاں اور پیرس کی ریلی میں شریک ہونے والے ان کے مہمان غیر ملکی رہنماؤں کا اصل امتحان ہے۔

XS
SM
MD
LG