رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کئی مسلم ممالک کی نسبت اسلامی طرز زندگی کے زیادہ قریب: مسلم رہنما


مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے وہ اپنے گھر میں ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے جمہوریت کوئی غیر مانوس چیز نہیں۔ مسلمان عالم دین فیصل رؤف کہتے ہیں کہ اسلامی قانون جمہوری اصولوں پر بنا ہے۔

دسمبر 2015 کے اوائل میں مسلمان اور ان کے عقائد امریکی صدارتی انتخاب کی مہم کا سب سے گرم اور منقسم کرنے والا موضوع بن گیا۔

ریپبلکن پارٹی کے صف اول کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے بارے میں اپنا مؤقف بالکل واضح کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’ڈونلد جے ٹرمپ مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔’’

ٹرمپ نے 9/11 کے دہشت گرد حملوں کا مختصر تذکرہ کرنے کے بعد کہا کہ مسلمان امریکہ کے خلاف جہاد کرنا چاہتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘‘

ان کے مؤقف سے ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک لہر پیدا ہوئی جس نے امریکی مسلمانوں سمیت مسلم دنیا کے بارے میں پارٹی کی رائے کو تقسیم کر دیا اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کو بھی ناراض کیا۔

اس مطالبے کے ایک ماہ بعد تک صدر اوباما اس کے خلاف بولتے رہے۔ منگل کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اوباما نے کہا کہ ’’جب سیاستدان مسلمانوں کی توہین کرتے ہیں ۔۔۔ اس سے ہم زیادہ محفوظ نہیں ہو جاتے۔ یہ بالکل غلط ہے۔‘‘

مگر اس تنازع کی زد میں آئے مسلمان کیا کہتے ہیں؟

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے وہ اپنے گھر میں ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے لیے جمہوریت کوئی غیر مانوس چیز نہیں۔ مسلمان عالم دین فیصل رؤف کہتے ہیں کہ اسلامی قانون جمہوری اصولوں پر بنا ہے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’(امریکی) آزادی کا اعلامیہ اسلامی قانون کے مقاصد سے بالکل مطابقت رکھتا ہے۔ ہمارے حاکموں کو الیکشن کے ذریعے عوام سے قانونی جواز حاصل کرنا ہوتا۔ یہ سب طریقے اسلامی قانون کے عین مطابق ہیں۔‘‘

فیصل اسلام کے مغربی ممالک سے تعلقات کو بہتر بنانے اور جدت کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’کورڈوبا انیشی ایٹیو‘ کے بانی ہیں، اپنی نئی کتاب ’ڈیفائننگ اسلامک سٹیٹ ہڈ‘ میں وہ عصر حاضر میں امریکہ میں مسلمانوں کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔

’’بہت سے مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لیے امریکہ میں رہنا ان ممالک کی نسبت جہاں سے وہ آئے ہیں، اسلامی طرز زندگی سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے اور میں خود اس مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں۔‘‘ فیصل امریکہ میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔

ان کی کتاب چھ سالہ تحقیق پر مشتمل ہے جس میں دنیا بھر سے مسلم علمائے دین اور رہنماؤں سے رائے حاصل کی گئی۔ ان کا اس بات پر اتفاق تھا کہ اسلام کے چھ بنیادی مقاصد ہیں یعنی جان، عزت، مال، خاندان، دانش اور مذہب کی حفاظت، جو تمام امریکی طرز زندگی سے مطابقت رکھتے ہیں۔

نیو جرسی میں ایک نوجوان مسلم رہنما محمود محمود مقامی برادری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وہ امریکہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ساتھ اچھے تعلقات پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور فیصل کی بات سے متفق ہیں۔ ’’امریکہ کی طرز زندگی مسلمان ملکوں کی نسبت زیادہ اسلامی ہے۔‘‘

’’آپ مسلم ممالک میں ہر جگہ اقربا پروری دیکھتے ہیں۔ بدعنوانی، عورتوں سے بدسلوکی، غریبوں کی حقوق تلفی، سماجی انصاف کی کمی اور غربت ہر جگہ ہے۔ اگر آپ امریکہ میں ان مسائل کو دیکھیں تو یہاں لوگ اینی رائے کا کھل کر اظہار کر سکتے ہیں۔‘‘

امریکہ جس طرح بدعنوانی اور دیگر مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے محمود کے خیال میں یہ بہت مذہبی بات ہے۔ ’’یہ سب بنیادی اقدار ہیں جو ہر مذہب کا حصہ ہیں۔ اگر آپ ہمسایوں کا خیال رکھنے اور غریبوں کا خیال رکھنے کی بات کریں تو میں بہت سی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایسا ہونا چاہیئے۔‘‘

فیصل کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مسلم دینا کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ’’دیکھیں، امریکہ کے مسلم دنیا میں وسیع مفادات ہیں۔ ہماری فوج عراق اور افغانستان میں ہے۔ ہمارے اڈے ترکی میں ہیں۔ ہمارے مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات، ہماری وہاں موجودگی، ہم اسے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ ہمارے اقتصادی مفادات ہیں۔‘‘

اس لیے فیصل کے بقول ڈونلڈ ٹرمپ کا مطالبہ قابل عمل نہیں۔

’’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ مسلمانوں کو یہاں نہیں آنے دیں گے۔ اگر آپ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ امریکہ کا مسلم دنیا کے ساتھ رشتہ کتنا گہرا ہے۔ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG