رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب، پاکستانیوں سمیت امریکی مسلمانوں کی شرکت


نوید شاہ کو خاتون اول مشیل اوباما نے مدعو کیا ہے جو صدر کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران خاتون اول کے باکس میں تشریف فرما ہوں گے۔

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں تین پاکستانی نژاد امریکیوں کو بطور خصوصی مہمان مدعو کیا گیا۔

ان پاکستانی نژاد امریکیوں میں پہلا نام نیویارک مسلم پولیس افسر ایسوسی ایشن کے صدر کیپٹن عدیل رانا کا ہے، دوسرا نام ورجینیا کے رہائشی سابق امریکی فوجی عدیل شاہ کا ہے، جبکہ تیسرا نام کونسل آف پاکستان امریکن افیئرز کے سابق صدر عدنان خان کا ہے۔

نوید شاہ کو خاتون اول مشیل اوباما نے مدعو کیا ہے جو صدر کے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران خاتون اول کے باکس میں تشریف فرما ہوں گے۔

خاتون اول کی جانب سے کسی پاکستانی نژاد کو اسٹیٹ آف دی یونین میں مدعو کیا جانا خصوصی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

کیپٹن عدیل رانا کو نیویارک سے خاتون رکن کانگریس گریس مینگ کی ایما پر مدعو کیا گیا ہے۔ وہ مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر صدر کی تقریر سنیں گے جب کہ عدنان خان کو کیلیفورنیا سے رکن کانگریس جوڈی چو نے مدعو کیا۔ وہ بھی مہمانوں کی گیلری میں بیٹھ کر صدر کی تقریر سنیں گے۔

صدر کا اسٹیٹ آف دی یونین دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہوتا ہے جس میں صدر اپنی حکومت کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبوں سے منتخب اراکین اور قوم کو آگاہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر خاتون اول کی جانب سے مہمانوں کو مدعو کیا جانا ایک پرانی روایت ہے، جسے بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

نوید شاہ کے والدین پاکستانی ہیں جب کہ وہ سعودی عرب میں پیدا ہوئے۔ تاہم، ان کے والدین انھیں بچپن ہی میں لے کر امریکہ آ گئے تھے جہاں انھوں نے ورجینیا میں رہائش اختیار کی۔ نوید شاہ نے ابتدائی تعلیم ورجینیا میں حاصل کرنے کے بعد امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی اور قومی دفاع کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔

عراق میں فوجی خدمات سرانجام دینے کے بعد جب 2010 ء میں وہ وطن لوٹے تو انھوں نے یہاں جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کیا۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں مدعو کیے جانے اور پاکستانی کمیونٹی کی نمائندگی کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔

اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوسرے خصوصی مہمان کیپٹن عدیل رانا نیویارک شہر میں کمیونٹی اور پولیس کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

وہ پہلے مسلمان پولیس اہل کار ہیں جو نیویارک پولیس کے مسلم افسران کا وفد لے کر پیرس گئے اور دہشت گردی کے خلاف پیرس پولیس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

پہلی بار اُن کی قیادت میں نیویارک پولیس کے مسلمان افسران کا ایک دستہ باقاعدہ سرکاری سطح پر حج کے لیے سعودی عرب گیا۔

کیپٹن عدیل رانا نے نیویارک پولیس اور مسلم کمیونٹی کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے کرکٹ کو فروغ دینے میں بھی حصہ لیا۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمائندگان کے ارکان نے دیگر مسلمانوں کو بھی خطاب سننے کے لیے دعوت دی۔

ان میں نمائندہ کیتھ الیسن نے اپنے بیٹے علی جاہ کو دعوت دی جو فوج کے طبی عملے میں شامل ہیں، نمائندہ ایمی بیرا نے عراقی پناہ گزین انجینیئر سرمد ابراہیم کو دعوت دی، نمائندہ سوزین بونامچی نے اسلامک سوسائٹی آف گریٹر پورٹ لینڈ کی صدر سلمیٰ احمد کو دعوت دی، میساچوسٹس سے نمائندہ جم مک گورن نے عاصمہ سلوا کو اور نمائندہ سیتھ مولٹن نے نو سالہ شامی پناہ گزین احمد الخلاف کو دعوت دی جس کے بازو ایک بم دھماکے میں ضائع ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ وسکونسن سے نمائندہ مارک پوکن نے مقامی کونسل کے رکن اور سافٹ وئیر انجنیئر سامبا بلدہ کو دعوت دی، نمائندہ مائیک کگلی نے 23 سالہ شامی نژاد سرگرم کارکن اعلا بعثتنہ کو مدعو کیا، نمائندہ بونی کولمین نے اسلامک سوسائٹی آف سنٹرل نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے حماد احمد شبلی کو، سینیٹر ایل فرانکن نے منیاپولیس میں ایک ریستوران چین کے مالک عبدالرحمٰن کاہن کو، نمائندہ ڈین کلڈی نے سابق امریکی فوجی عامر حکمتی کی بہن سارہ حکمتی کو دعوت دی۔ عامر حکمتی کو ایران نے جاسوسی کے الزام میں قید کر رکھا ہے۔

نمائندہ جو کرٹنی نے کنکٹیکٹ کی بیت الامن مسجد کے صدر محمد قریشی کو دعوت دی جبکہ کولوراڈو سے نمائندہ ڈائنا ڈی گیٹ نے میٹرو ڈینور نارتھ اسلامک سنٹر کے امام شمس الدین بن مسعود کو خطاب سننے کے لیے بطور مہمان دعوت دی۔

XS
SM
MD
LG