رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا کی صدر کے مواخذے کی تحریک منظور


وزیر اعظم کیو اہن اس وقت تک ملک کی قیادت سنبھال لیں گے جب تک آئینی عدالت باضابطہ طور پر پارک کو اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کر دیتی ہے۔

جنوبی کوریا کے قانون سازوں نے صدر پارگ گیون ہئی کے مواخذے کی تحریک منظور کر لی ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب حالیہ ہفتوں میں ملک کی پہلی خاتون صدر کے خلاف مظاہروں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

جیسے ہی باضبابطہ دستاویز جمعہ کو دیر گئے ایوان صدر کو پیش کر دی جائیں گی تو پارک گیون ہئی کا اختیار ختم ہو جائے اور وزیر اعظم کیو اہن اس وقت تک ملک کی قیادت سنبھال لیں گے جب تک آئینی عدالت باضابطہ طور پر پارک کو اقتدار سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کر دیتی ہے۔

عدالت کے پاس اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے 180 دن ہیں، اگر عدالت کے نو ججوں میں سے چھ ان کے مداخذے کے حمایت کرتے ہیں تو پارک کو باضابطہ طور پر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا اور اس کے 60 دن کے اندر ملک میں نئے صدارتی انتخاب کرائے جائیں گے۔

جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی کے اسپیکر چنگ سئی کیون نے کہا کہ پارک کے مواخذے کی تحریک 56 کے مقابلے میں 236 ووٹوں سے منظور ہوئی، جب کہ نو ارکان غیر حاضر تھے۔

مواخذے کی تحریک کے حق میں ڈالے ووٹوں کی تعداد تین سو اراکان پر مشتمل ایوان کی دو تہائی تعداد سے کہیں زیادہ تھی، مواخذے کی تحریک منظوری کے لیے حزب مخالف کو پارک کی جماعت کے ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری تھی جو انہیں حاصل ہو گئی۔

پارک نے حالیہ بدعنوانی اسکینڈل پر عوامی غم و غصہ کی وجہ سے کئی بار معافی مانگی تاہم انہوں نے کسی بھی غیر قانونی کام میں ملوث ہونے کا انکار کیا۔

انہوں نے گزشتہ ماہ مواخذے سے بچنے کے لیے یہ مشروط پیش کش بھی کی تھی کہ اگرپارلیمان اقتدار کے منتقلی کا ایک مستحکم منصوبہ پیش کرتی ہے تو وہ اقتدار چھوڑ دیں گی۔

گزشتہ ماہ استغاثہ نے پارک کی ایک دیرینہ دوست چوئی سون سل اور دو سابق صدارتی معاونین پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں صدر مشتبہ افراد کی مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں کی "ساز باز میں ملوث" ہیں۔

چوئی سون سل اور صدر کے دو سابق معاونین پر الزام ہے کہ انہوں نے بڑی کمپنیوں کو ڈرا دھمکا کر کروڑوں ڈالر وصول کرنے کے علاوہ اور ان غیر سرکاری اداروں کے لیے فائدے حاصل کیے جنہیں وہ کنٹرول کرتی تھیں اور اس طرح وہ مبینہ طور پر سرکاری امور میں مداخلت کی مرتکب ہوئیں۔

پارک کے وکلاء ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر تحقیقات آزادانہ اور خصوصی استغاثہ کی ذریعے کروائی جائیں تو تعاون کریں گے۔

XS
SM
MD
LG