رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا: انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے خلاف مہم


حالیہ برسوں میں جنوبی کوریا میں مشہور شخصیات میں خود کشی کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے واقعات انٹرنیٹ کے ذریعے ہراساں کیے جانے کی بنا پر پیش آئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ہراساں کیا جانا جنوبی کوریا کا سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تاہم کچھ طالب علم انٹرنیٹ کے مختلف فورمز پر اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ طالب علم انٹرنیٹ کے مختلف فورمز پر مثبت اور خوش گوار پیغامات پوسٹ کرتے ہیں۔ اساتذہ اور دوسرے بالغ افراد کا خیال ہے کہ ان پیغامات سے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو گی جو ان فورمز پرجا کر منفی خیالات پیش کرتے ہیں۔

ایک15 سالہ طالبہ کم ہی جو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سکول کے ہوم پیچ پر دوستوں، خاندان اور اساتذہ کے لیے شکریے پر مبنی پیغامات لکھتی ہیں اور وہ مشہور شخصیات کے بارے پوسٹ کیے جانے والے خراب تبصرے بھی دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اس لیے اچھے پیغامات پوسٹ کرتی ہیں کیوں کہ جب لوگ مثبت تبصرے یا پیغامات لکھے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ وہ منفی باتیں لکھنے سے باز آ جائیں گے اور اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے۔

جنوبی کوریا کا ہوگوگ سکول ’سن فل موومنٹ‘ نامی ایک ملک گیر پروگرام میں شرکت کر رہا ہے۔ کوریائی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے ’اچھا جواب۔‘ اس پروگرام کا مقصد انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کو روکنا اور انٹرنیٹ پر مزید مثبت فضا پیدا کرنا ہے۔

جنوبی کوریا میں انٹرنیٹ پر سائبر حملے شدت اختیار کرتا ہوا مسئلہ بن رہا ہے۔ ملک کے پالیسی سے متعلق ادارے کو ہر سال ہزاروں شکایات موصول ہوتی ہیں لیکن چوں کہ اکثر اوقات ایسے حملہ آور گم نام ہوتے ہیں، اس لیے انہیں روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جا سکتے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اور اس سلسلے میں پیش آنے والے انتہائی شدید واقعات میں انٹرنیٹ پر ہراساں کرنے والوں نے کچھ مشہور شخصیات اور عام لوگوں کو خود کشی پر مجبور کر دیا۔

اسی صورتِ حال کے ازالے کے لیے سؤل کی کونکوک یونیورسٹی میں انگریزی کی پروفیسر اور سن فل پروگرام کے بانی من بیونگ چول نے تین سال قبل یہ پروگرام شروع کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ بہت سے حملہ آور 30 سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان سکول کے کام کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے کالج کے داخلے کے امتحانات کی تیاری کرنا ہوتی ہے۔ وہ جو کچھ محسوس کر رہے ہوتے ہیں، اسے انٹرنیٹ فورمز میں لکھ دیتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے دل کا غبار نکال کر اپنی پریشانی اور دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

16 سالہ لی جائے ہو بھی انٹرنیٹ پر ایک ایسے ہی حملے کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انہیں ایک سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے اپنے ہوم پیج پر پریشان کن پیغامات ملے تھے۔ لی کا کہنا ہے کہ جب کبھی ہراساں کیے جانے کے کسی واقعے کی ابتدا ہوتی ہے تو پھر اس پر ردعمل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جنوبی کوریا میں کچھ لوگ دوسروں کو گم نام طریقے سے پریشان کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں، اور اس کے بعد کئی دوسرے لوگ منفی تبصرے پڑھ کر ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔

جنوبی کوریا وہ واحد ملک نہیں ہے جہاں انٹرنیٹ پر ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک ہائی سکول نے حال ہی میں طالب علموں کو فیس بک پر ایک استاد کے بارے میں نفرت آمیز تبصرے پوسٹ کرنے پر سکول سے عارضی طور پر نکال دیا ہے۔ ایک امریکی ریاست میں قانون سازاس نوجوان لڑکی کی خود کشی کے بعد جسے انٹرنیٹ پر نازیبا پیغامات وصول ہوئے تھے، سماجی میڈیا کے ذریعے ایسے حملوں کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

سن فل موومنٹ کے بانی من بیونگ چول کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا جو ان سماجی مسائل سے نمٹنے کا کئی برسوں کا تجربہ رکھتا ہے، دوسرے ملکوں کے لیے ماڈل کا کام کرسکتا ہے۔

ہوگوک مڈل سکول کی ٹیچر کم ایون یونگ کہتی ہیں کہ جب سے سکول نے سن فل پروگرام شروع کیا ہے، انہوں نے طالب علموں میں نمایاں فرق دیکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کوریا کے باشندے عام طور پر اپنے دوستوں یا والدین کو شکریہ یا آئی لویو نہیں کہتے۔ لیکن اب اس پروگرام کے توسط وہ براہ راست نہیں تو گم نام طریقے سے ہی اس طرح کے مثبت جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

کم کا کہنا ہے کہ سکول میں آن لائن یا عام زندگی میں دوسروں کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں کمی آئی ہے اور طالب علموں اور اساتذہ کے تعلقات پہلے سے کہیں بہتر ہو گئے ہیں۔



XS
SM
MD
LG