رسائی کے لنکس

logo-print

ممکنہ میزائل حملے سے نمٹنے کے لیے جنوبی کوریا کی تیاری


جنوبی کوریا نے اپنے دو جنگی بحری بیڑے بھی روانہ کر دیے ہیں جن پر میزائل داغے جانے کی پیشگی اطلاع دینے والے راڈار نصب بھی ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کی طرف سے ممکنہ میزائل حملے کے تناظر میں تیزی سے اپنی تیاریاں مکمل کرنا شروع کر دی ہیں۔

جنوبی کوریا نے اپنے دو جنگی بحری بیڑے بھی روانہ کر دیے ہیں جن پر میزائل داغے جانے کی پیشگی اطلاع دینے والے راڈار نصب بھی ہیں۔ یہ اقدام اس تشویش کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا جلد ہی اشتعال انگیز کارروائی کرسکتا ہے۔

ان میں سے ایک جہاز مشرقی اور ایک مغربی ساحل پر تعینات کیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی یون ہاپ نے اعلیٰ حکومتی عہدیدار سے منسوب خبر دی ہے کہ شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا اپنا دوسرا میزائل گشتی لانچر پر نصب کردیا ہے۔

حالیہ دنوں میں جزیرہ نما کوریا میں شمال کی طرف سے اپنے تیسرے ایٹمی تجربے کے بعد اقوام متحدہ کی پابندیوں کے ردعمل میں جنوبی کوریا اور امریکہ پر حملے کی دھمکیوں میں تیزی آئی ہے۔

امریکہ کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے اور جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے پوری طرح سے تیار ہے اور شمالی کوریا کو ایسے ’اشتعال انگیز‘ اعلانات سے گریز کرنا چاہیے۔

جنوبی کوریا کے حکام اور غیر جانبدار دفاعی مبصرین یہ خیال ظاہر کررہے ہیں کہ پیانگ یانگ اپنے میزائل 15 اپریل کو لانچ کر سکتا ہے کیونکہ شمالی کوریا میں اس دن عام تعطیل ہوتی ہے اور یہ اس کے سابق بانی رہنما کم اِل سنگ کا یوم پیدائش ہے جسے وہ سورج کا دن ’’دی ڈے آف دی سن‘‘ کے طور پر مناتا ہے۔
XS
SM
MD
LG