رسائی کے لنکس

سرمائی اولمپکس میں تعاون، جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش


جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن۔ فائل فوٹو

نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما نے کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپک کھیلوں میں ایک دستہ بھیجنے کیلئے تیار ہیں۔

جنوبی کوریا نے آج منگل کے روز شمالی کو ریا کو اعلیٰ سطح کے مزاکرات کی پیشکش کی ہے تاکہ اگلے ماہ جنوبی کوریا کے شہر پیونگ چنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے انعقاد کے سلسلے میں دونوں کوریاؤں کے درمیان تعاون کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔ جنوبی کوریا کی طرف یہ پیشکش شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کی طرف سے ایک روز قبل جنوبی کوریا کے ساتھ ممکنہ طور پر بہتر تعلقات کی پیشکش کے بعد سامنے آیا ہے۔

نئے سال کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما نے کہا تھا کہ وہ جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپک کھیلوں میں ایک دستہ بھیجنے کیلئے تیار ہیں۔ اس خطاب میں کم جونگ اُن نے امریکہ کو جوہری ہتھیاروں کی دھمکی بھی دی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے لیڈر کی طرف سے جنوبی کوریا کو مصالحت کی پیشکش کرنے کا مقصد جنوبی کوریا اور اس کے اتحادی ملک امریکہ کے تعلقات میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے تاکہ شمالی کوریا کو عالمی سطح پر تنہا کئے جانے اور اُس پر پابندیاں عائد ہونے سے بچا جا سکے۔

جنوبی کوریا میں اعتدال پسند صدر مون جائے اِن کی حکومت نے شمالی کوریا کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے جو شمالی کوریا کی طرف سے جوہری خطرے کو دور کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ مزاکرات کے حامی ہیں اور وہ اس مقصد کیلئے پیونگ چنگ میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے موقع سے فائدہ اُٹھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

جنوبی کوریا کے کوریائی اتحاد کے وزیر میونگ گائیون نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ دونوں کوریاؤں کے وفود مشترکہ سرحد کے گاؤں پن مو نجوم میں 9 جنوری کو ملیں گے اور اولمپک کھیلوں میں تعاون کے علاوہ مجموعی طور پر دونوں کوریاؤں کے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کی راہیں تلاش کریں گے۔

اس سے قبل جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ شمالی کوریا سے تعلقات بہتر بنانے اور اسے سرمائی کھیلوں میں شمولیت پر راضی کرنے کے راستے تلاش کریں ۔

اگر یہ مزاکرات حقیقی طور پر ممکن ہو جاتے ہیں تو یہ دسمبر 2015 کے بعد سے پہلا موقع ہو گا کہ دونوں ملکوں میں باقاعدہ رابطے قائم ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے پروگرام کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے تھے۔

شمالی کوریا نے پچھلے سال اپنا چھٹا اور سب سے طاقتور ایٹمی تجربہ کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی بیلسٹک میزائیل کے تین تجربات کئے تھے جو مبینہ طور پر امریکہ کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے جزیرہ نما کوریا میں جنگی مشقوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔

جنوبی کوریا میں امریکہ کے 28,500 کے لگ بھگ فوجی متعین ہیں تاکہ جنوبی کوریا پر کسی بھی جارحیت کے امکان کو ختم کرنے میں مدد دے سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG