رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا کی صدر کا شمال کے خلاف سخت موقف کی حمایت کا مطالبہ


"ہماری نیک نیتی بھی شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی خواہش کو کم نہیں کر سکی اور یہ صرف اس کی جوہری قابلیت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرے گی۔"

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون ہئی نے شمالی کوریا کے حالیہ جوہری اور راکٹ تجربے پر اپنے سخت موقف کی حمایت اور اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔

منگل کو سیول میں قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1994ء میں پہلی مرتبہ شمالی کوریا کی طرف سے سیول کو بھسم کر دینے کی دھمکی کے بعد یہ ملک تواتر سے جوہری حملے کی دھمکیاں دیتا چلا آرہا ہے جس سے جنوبی کوریا کے شہری اس بارے میں لاپرواہ ہو گئے ہیں۔

"ہم طویل عرصے سے شمالی کوریا کی طرف سے خطرے کی فضا میں رہتے رہتے سلامتی کے معاملات میں بے حس ہو چکے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم نے اس بات سے صرف نظر کیا کہ شمالی کوریا سے جوہری خطرہ براہ راست ہمارے لیے ہے۔"

پارک کے اس خطاب سے چند روز پہلے ہی سیول نے پیانگ یانگ کے ساتھ مشترکہ صنعتی کمپلیکس کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جنوبی کوریا کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام کا مقصد کمپلیکس سے شمالی کوریا کو حاصل ہونے والے لاکھوں ڈالر کی آمدن کو مبینہ طور پر اس کے ہتھیاروں کے پروگرام میں استعمال ہونے سے روکنا ہے۔

اقوام متحدہ نے شمالی کوریا پر جوہری اور بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق سرگرمیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

جنوبی کوریا کی رہنما کا کہنا تھا کہ کائی سونگ کا منصوبہ ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل اعتماد سازی کے لیے شروع کیا گیا جب کہ اس سلسلے میں سیول، پیانگ یانگ کو سیول لاکھوں ڈالر معاونت بھی فراہم کر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم نہیں ہوسکی۔

"ہماری نیک نیتی بھی شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی خواہش کو کم نہیں کر سکی اور یہ صرف اس کی جوہری قابلیت کو مزید فروغ دینے میں مدد کرے گی۔"

کائی سونگ صنعتی کمپلیکس کی بندش سے شمالی کوریا کو قابل ذکر اقتصادی نقصان پہنچے گا لیکن اس کے ساتھ ہی ان 124 جنوبی کوریائی کمپنیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے جو اس کمپلیکس میں کام کر رہی تھیں۔

XS
SM
MD
LG