رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا سے پابندیاں نہیں اٹھا رہے، جنوبی کوریا کی وضاحت


شمالی و جنوبی کوریا کے سربراہان حالیہ چند ماہ میں تین ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

پابندیوں کے خاتمے سے متعلق جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کے بیان پر اپنے ردِ عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا اپنے تئیں یہ پابندیاں نہیں اٹھاسکتا۔

جنوبی کوریا نے واضح کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر سے وہ پابندیاں اٹھانے پر غور نہیں کر رہا جو 2010ء میں جنوبی کوریا کے ایک جنگی جہاز کو ڈبونے کے الزام پر پیانگ یانگ کے خلاف عائد کی گئی تھیں۔

جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون کی جانب سے یہ وضاحت ملکی پارلیمان کے ارکان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔

پابندیاں اٹھانے کا عندیہ جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کانگ کیونگ وہا نے بدھ کو دیا تھا۔ اپنے بیان میں وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک ان پابندیوں کا جائزہ لے رہا ہے جو 2010ء میں شمالی کوریا پر عائد کی گئی تھیں۔

جنوبی کوریا کا ایک بحری جنگی جہاز2010ء میں مبینہ طور پر تارپیڈو حملے کا نشانہ بننے کے بعد ڈوب گیا تھا جس کا الزام سول حکومت نے شمالی کوریا پر عائد کیا تھا۔

حادثے میں جہاز پر سوار جنوبی کورین نیوی کے 46 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ شمالی کوریا کی حکومت واقعے میں ملوث ہونے کےا لزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔

واقعے کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے شمالی کوریا کے ہر قسم کے جہازوں کے جنوبی کورین بندرگاہوں میں داخلے پر پابندی لگادی تھی اور شمالی کوریا کے ساتھ سیاحت، تجارت اور امداد معطل کرتے ہوئے بیشتر وفود کا تبادلہ بھی روک دیا تھا۔

بدھ کو جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کی جانب سے ان پابندیوں کو اٹھانے کا عندیہ دینے کے بعد جنوبی کورین پارلیمان کے قدامت پسند ارکان نے سخت احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پابندیاں اس وقت تک نہیں اٹھائی جانی چاہئیں جب تک شمالی کوریا جہاز پر حملے کی معافی نہیں مانگ لیتا۔

پابندیوں کے خاتمے سے متعلق جنوبی کوریا کی وزیرِ خارجہ کے بیان پر اپنے ردِ عمل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا اپنے تئیں یہ پابندیاں نہیں اٹھاسکتا۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنوبی کوریا کی حکومت امریکہ کی اجازت کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اور شمالی کوریا پر اس وقت تک پابندیاں برقرار رہیں گی جب تک وہ اپنے تمام جوہری ہتھیار تلف نہیں کردیتا۔

جمعرات کو ارکانِ پارلیمان کو اس معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق چو میونگ گیون نے واضح کیا کہ پابندیوں کا خاتمہ جہاز ڈوبنے کے واقعے پر شمالی کوریا کے اقدامات سے مشروط ہے۔

جنوبی کوریا میں کئی حلقے اس معاملے پر صدر ٹرمپ کے بیان پر بھی برہم ہیں اور ان کی جانب سے پابندیوں کے خاتمے کا معاملہ امریکی اجازت سے مشروط قرار دینے کو جنوبی کوریا کی توہین قرار دے رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی قدامت پسند اپوزیشن جماعت نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان یہ ظاہر کرنے کی کوشش ہے کہ سول حکومت اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے تیزی سے کوششیں کر رہی ہے جس پر امریکہ کو تحفظات ہیں۔

جمعرات کو پارلیمان کو بریفنگ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے وزیر برائے الحاق نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

البتہ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ دونوں کوریاؤں کے درمیان بات چیت اور وفود کے تبادلوں کا مخالف نہیں اور سول حکومت اس پیش رفت پر وشنگٹن ڈی سی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

لیکن چو میونگ گیون نے تسلیم کیا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے شمالی و جنوبی کوریا کے درمیان سرحدی کشیدگی کم کرنے کے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جو دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان گزشتہ ماہ طے پایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG