رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقیں، شمالی کوریا کی دھمکی


شمالی کوریا ان سالانہ فوجی مشقوں، جنہیں وہ اپنے خلاف جنگی کی تیاری قرار دیتا ہے، کے ردعمل میں جنگی اقدامات اٹھانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکہ نے پیر کو بڑے پیمانے پر مشترکہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔

دفاعی نوعیت کی یہ مشقیں ہر سال کی جانے والی مشقوں کا ہی حصہ ہیں۔ دوسری طرف شمالی کوریا نے ان مشقوں کو "جوہری جنگی اقدامات'' قرار دیتے ہوئے ردعمل میں ہر طرح کے جنگی اقدام اٹھانے کی دھمکی دی ہے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال جنوری میں چوتھے جوہری تجربے اور گزشتہ ماہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تجربے کے بعد سے یہ سب سے بڑی جنگی مشقیں ہیں۔ ان تجربات کے بعد سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں کے متعلق اپنے پرانے اتحادی چین کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا تھا اور گزشتہ ہفتے اس کے رہنما کم جان اُن نے اپنے ملک کو ان کے بقول دشمنوں کی دھمکی کے ردعمل میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی کمان نے کہا ہے کہ انہوں نے شمالی کوریا کو ’’اس تربیت کے غیر اشتعال انگیز ہونے‘‘ کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ ان مشقوں میں تقریباً سترہ ہزار امریکی جبکہ تین لاکھ سے زائد جنوبی کوریا کے فوجی حصہ لے رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے کوئی غیر معمولی فوجی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز نے شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نیشنل ڈیفنس کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی طرف سے کسی بھی حملے کا جواب ہر طرح کے جنگی اقدامات سے دیا جائے گا۔

شمالی کوریا ان سالانہ فوجی مشقوں، جنہیں وہ اپنے خلاف جنگی کی تیاری قرار دیتا ہے، کے ردعمل میں جنگی اقدامات اٹھانے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG