رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی جانب سے نئے میزائل تجربے کی تیاریاں


جنوبی کوریا کے حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے پڑوسی ملک شمالی کوریا اپنی قوت کے اظہار کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرسکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے حکام نے اندیشہ ظاہر کیا ہے پڑوسی ملک شمالی کوریا اپنی قوت کے اظہار کے لیے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرسکتا ہے۔

سیول میں حکام نے بتایا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے نئے میزائل تجربے کے خدشے کے پیشِ نظر جنوبی کوریا اور ملک میں تعینات امریکی فوجی دستوں کو الرٹ کردیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے اپنے بعض میزائل موبائل لانچرز پر منتقل کیے جانے کے شواہد ملے ہیں جس کے بعد فوج کو بدھ سے انتہائی چوکنا کردیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیرِ خارجہ یون بیونگ سی نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ پڑوسی ملک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کی تیاریاں کر رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ نے بدھ کو سیول میں ایک پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کو ملنے والی انٹیلی جنس رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ "شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کے امکانات بہت زیادہ ہیں" جو ان کے بقول "کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے"۔

یون بیونگ سی نے کمیٹی کو بتایا کہ انہیں دستیاب اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا 'مسودن' نامی میزائل کا تجربہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کی مار 3500 کلومیٹر تک ہے۔

شمالی کوریا کی جانب سے اس میزائل کا یہ پہلا تجربہ ہوگا۔

جنوبی کوریا کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے 'یونہوپ' کے مطابق شمالی کوریا میں کئی دوسرے متحرک میزائل لانچرز کی نقل و حرکت کے شواہد بھی ملے ہیں جنہیں ممکنہ طور پر دوسری اقسام کے میزائلوں کے تجربات کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

قبل ازیں امریکی فوج کے ایک اعلیٰ افسر ایڈمرل سیموئل لاک لیئر نے امریکی سینیٹ کی 'آرمڈ سروسز کمیٹی' کے ارکان کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا اپنا کم از کم ایک میزائل ملک کے مشرقی ساحلی علاقے میں منتقل کیا ہے۔

امریکی فوج کی 'پیسیفک کمانڈ' کے سربراہ ایڈمرل لاک لیئر نے واشنگٹن میں قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ان کے دستے شمالی کوریا کی جانب سے فائر کیے جانے والے کسی بھی ایسے بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے امریکی فوجی اڈوں یا جنوبی کوریا اور جاپان سمیت خطے میں موجود امریکہ کے اتحادی ممالک کو کوئی خطرہ ہو۔

دریں اثناشمالی کوریا کی جانب سے جنگ کی دھمکیوں اور میزائل تجربے کے امکان کے باوجود جنوبی کوریا میں صورتِ حال پر امن ہے اور کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

سیول میں موجود 'وائس آف امریکہ' کے نمائندے اسٹیو ہرمن کے مطابق دارالحکومت میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں جہاں جنوبی کوریا کی کل آبادی کا نصف - یعنی تقریباً دو کروڑ افراد – رہتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے شہریوں کو جنوبی کوریا سے انخلا کی ہدایت نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔

خیال رہے کہ منگل کو شمالی کوریا کے حکام نے جنوبی کوریا میں مقیم غیر ملکیوں پر زور دیا تھا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں کیوں کہ کسی بھی وقت "جنگ کا آغاز" ہوسکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے صدارتی محل سے جاری بیان میں پیانگ یانگ کے اس تازہ بیان کو نفسیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیان کا مقصد غیر ملکیوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔
XS
SM
MD
LG