رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی کوریا کے شہری نے جاپانی سفارتخانے کے باہر خود کو آگ لگا لی


80 سالہ شخص نے اس جگہ سے چند قدم فاصلے پر خود سوزی کی جہاں مظاہرین جنوبی کوریا کی ان لاکھوں عورتوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں جاپانی فوج کے قحبہ خانوں میں جنسی غلاموں کے طور پر زبردستی کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے مظالم کے خلاف سیول میں ایک مظاہرے کے دوران جنوبی کوریا کے ایک شہری نے جاپانی سفارتخانے کے سامنے خود کو آگ لگا لی۔

جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق خود سوزی کرنے والا 80 سالہ سخص زخمی ہوا مگر اس کے جان خطرے میں نہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے فوراً آگ بجھائی اور اسے ایمبولنس کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا۔ اس کے اقدام کے محرکات فوراً معلوم نہیں ہو سکے۔

80 سالہ شخص نے اس جگہ سے چند قدم فاصلے پر خود سوزی کی جہاں مظاہرین جنوبی کوریا کی ان لاکھوں عورتوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے جنہیں جاپانی فوج کے قحبہ خانوں میں جنسی غلاموں کے طور پر زبردستی کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ جاپان نے ان نام نہاد’’کمفرٹ ویمن‘‘ یعنی سکون بخش عورتوں کو پہنچائی جانے والی تکالیف کا مناسب ازالہ نہیں کیا اور نہ ہی ان سے معافی مانگی ہے۔ ہفتہ کو جاپان کے جزیرہ نما کوریا کے 35 سالہ تسلط کے خاتمے کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر اس معاملے پر مزید کشیدگی پیدا ہو گئی۔

2013 میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی نے جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے سے اس وقت تک ملنے سے انکار کیا ہے جب تک وہ جنگ کے دوران جاپان کی طرف سے کی جانے والی زیادتیوں کی مخلصانہ معافی نہیں مانگتے اور جنسی غلاموں کے طور پر استعمال کی جانے والی عورتوں کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا ازالہ نہیں کرتے۔

سیول اور ٹوکیو کے درمیان بحیرہ جاپان میں چھوٹے جزائر کے ایک سلسلے کی ملکیت پر بھی تنازع چل رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG