رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی سوڈان میں امن کے لیے بات چیت ایتھوپیا میں شروع


امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے اتوار کو کہا کہ واشنگٹن امن کی تلاش کرنے والوں کی حمایت کرے گا لیکن طاقت کے ذریعے کسی طرح کا فائدہ حاصل کرنے والوں کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان پر دباؤ ڈالے گا۔

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں کے درمیان امن مذاکرات ایتھوپیا میں شروع ہوگئے ہیں جب کہ اس ملک کے دو بڑے حصوں میں اب بھی لڑائی جاری ہے۔

فریقین میں کئی دنوں کی تاخیر کے بعد اتوار کو براہ راست مذاکرات کا آغاز ادیس ابابا میں ہوا۔
جنوبی سوڈان کے صدر سلواکیر اور سابق نائب صدر ریئک ماچار کے نمائندوں نے ہفتہ کو مذاکرات کی افتتاحی تقاریب میں شرکت کی تھی۔

امریکہ کے وزیرخارجہ جان کیری نے اتوار کو کہا کہ واشنگٹن امن کی تلاش کرنے والوں کی حمایت کرے گا لیکن طاقت کے ذریعے کسی طرح کا فائدہ حاصل کرنے والوں کے خلاف عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان پر دباؤ ڈالے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سنجیدگی سے ہونے چاہیئں نہ کہ یہ کوئی ’’شعبدہ بازی‘‘ ہو۔

جنوبی سوڈان میں گزشتہ ماہ کے وسط میں باغی فوجیوں نے فوج کے صدر دفاتر پر حملہ کیا تھا اور صدر سلواکیر نے ماچار پر ناکام بغاوت کا الزام لگایا جس کے بعد معرض وجود میں آنے والی دنیا کی اس نئی ریاست میں لڑائی شروع ہوگئی تھی۔

ایتھوپیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈینا مفتی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مذاکرات کے ایجنڈے پر بہت سے معاملات ہیں۔

’’جنگ بندی لازمی طور پر ایجنڈے میں سرفہرست ہے، پھر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے راستوں کی فراہمی، زیرحراست لوگوں کی رہائی اور دیگر معاملات بھی ہیں۔‘‘

جنوبی سوڈان میں ہونے والی لڑائی سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہفتہ کو جونگلئی ریاست کے مرکزی شہر بور سے بھی شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سرکاری فورسز نے اس شہر کا قبضہ بحال کرنے کے لیے بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

دارالحکومت جوبا سے بھی متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔
XS
SM
MD
LG