رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان: کھلونا نما بم پھٹنے سے چھ بچے ہلاک


سکیورٹی فورسز بارودی سرنگوں اور مواد کو ناکارہ بناتی آ رہی ہیں۔ فائل فوٹو

مرنے والے بچوں کی عمریں چھ سے 12 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

افغان سرحد سے ملحق پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کھلونا نما ایک بم پھٹنے سے کم از کم چھ بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق ایجنسی کے علاقے سپین مارک میں اتوار کی شام بچوں کو ایک کھلونا نما چیز ملی تھی جس سے وہ کھیل رہے تھے کہ اچانک وہ زوردار دھماکے سے پھٹ گئی۔

مرنے والے بچوں کی عمریں چھ سے 12 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ اس واقعے میں دو بچے زخمی بھی ہوئے ہیں جن کی حالت تشویش ناک ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ بچوں کو یہ کھلونا نما بم کہاں سے ملا تھا۔

ایک عرصے تک شدت پسندی کا شکار رہنے والے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں اس سے قبل بھی ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں بظاہر ناکارہ دستی بم یا کھلونا نما بم بچوں کے ہاتھ لگے اور دوران کھیل ان میں دھماکے سے بچے زندگی کی بازی ہار گئے۔

رواں سال فروری میں خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں ایسے ہی ایک بم دھماکے میں دو بچے ہلاک ہو ئے تھے۔

سکیورٹی فورسز اور پولیس قبائلی علاقوں اور صوبے میں ویرانوں یا پھر کوڑے کے ڈھیر میں پڑے پرانے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں آگاہی مہم بھی چلائی گئی ہے تاکہ لوگ ایسی کوئی مشکوک چیز نظر آنے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کو آگاہ کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG