رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی وزیرستان: بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبات میں شدت


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبے خیبرپختوںخوا کے اضلاع جنوبی اور شمالی وزیرستان سمیت دیگر قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں اضافے پر اہل علاقہ تشویش میں مبتلا ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن مرتضیٰ محسود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اب تک صرف جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے 110 مختلف واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں 23 افراد ہلاک اور 83 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 21 بچے بھی شامل ہیں۔ ان کے بقول، ایسے واقعات میں زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد جسمانی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ان علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمے کے مطالبات 31 اکتوبر کو پشاور سے ملحقہ ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد زور پکڑ رہے ہیں۔ اس واقعے میں ایک خاتون ٹانگ سے محروم ہو گئی تھی۔

بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں اضافے کے بعد جنوبی وزیرستان سمیت بیشتر قبائلی اضلاع میں مختلف سیاسی اور سماجی رہنما ان علاقوں سے بارودی سرنگوں کو فوری طور پر ناکارہ بنانے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

مرتضٰی محسود کا کہنا ہے کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان علاقوں سے بارودی سرنگوں کا مکمل صفایا نہیں ہو جاتا اس وقت تک مکمل بحالی ممکن نہیں ہے۔

رہائشیوں کے مطابق قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگیں پھٹنے سے بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
رہائشیوں کے مطابق قبائلی اضلاع میں بارودی سرنگیں پھٹنے سے بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

پشتونوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مطالبات میں بھی خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے بارودی سرنگوں کے خاتمہ کا مطالبہ سرفہرست رہا ہے۔

ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ڈاکٹر خادم حسین کہتے ہیں کہ یہ بارودی سرنگیں ماضی قریب میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں نے بچھائی تھیں۔ ان کے بقول، پاکستانی فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن 'ضرب عضب' مکمل ہو جانے کے بعد ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ نہیں بنایا گیا۔ لہذٰا، اب یہ بارودی سرنگیں مقامی آبادیوں کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔

پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی لوگ بارودی سرنگوں کے فوری خاتمے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ روز DemineExFata# کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔

ایک صارف غنی ارمان نے لکھا ہے کہ بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ایک صارف رحمان وزیر نے لکھا ہے کہ پنجاب کی زمین پر فیکٹریاں، اسکول اور کارخانے قائم ہیں۔ لیکن ہماری زمین پر جان لیوا بارودی سرنگیں موجود ہیں۔

وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اجمل وزیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت اور سیکورٹی فورسز مل کر ان بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کام میں بتدریج تیزی آ رہی ہے اور حکومت شہریوں کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

علاوہ ازیں، مختلف عالمی امدادی اداروں کی جانب سے بھی شہریوں کو بارودی سرنگوں سے بچانے کے لیے آگاہی مہم بھی وقتاً فوقتاً چلائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG