رسائی کے لنکس

logo-print

’ہلاکت کا سبب بننے والی گیس سویابین ڈسٹ ہو سکتی ہے‘


اب تک 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

کراچی میں دو روز میں ایک درجن سے زائد ہلاکتوں کا باعث بننے والی زہریلی گیس کا سراغ مل گیا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے کیمیائی اور بائیولوجیکل سائنسز کراچی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کیماڑی کے علاقے میں لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والی گیس سویابین ڈسٹ ہو سکتی ہے۔

اس بات کا نتیجہ مریضوں کے خون کے ان نمونون سے نکالا گیا ہے، جو ریسرچ سینٹر کو تجزیے کے لئے بھیجے گئے تھے۔

واضح رہے کہ کیماڑی کے علاقے میں بے رنگ و بو گیس کے اخراج سے اتوار کی رات سے اب تک 14 افراد ہلاک، جبکہ 300 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر مریضوں کو اس علاقے میں گھبراہٹ، بےچینی، گلے میں خراش اور سانس لینے میں دشواری کی علامات ظاہر ہو رہی تھیں۔

جامعہ کراچی میں واقع کیمیائی اور بائیولوجیکل سائنسز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ پر مزید بتایا گیا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر بھی سویابین ڈسٹ کے نمونے اکٹھے کیے گئے ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کے دستخط سے جاری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس زہریلے مادے کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسے مریض جو سویابین ڈسٹ سے متاثر ہو کر اسپتالوں میں آ رہے ہیں انہیں bronchodilators ادویات دی جائیں جس سے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ گلے اور پھیپھڑوں کی الرجی سے نمٹنے والی ادویات بھی ایسے مریضوں کے لئے موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بندرگاہ پر سویابین کے کنٹینر اتارتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ سویابین ڈسٹ کے ذرات انسانوں میں سانس لینے کے نظام میں رکاوٹ اور الرجی پیدا کرسکتے ہیں۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے سویابین ڈسٹ سے اسپین کے شہر بارسلونا میں بھی بڑی تعداد میں لوگ متاثر اور ہلاکتیں بھی رونما ہوچکی ہیں۔

واضح رہے کہ دو روز تک پراسرار رہنے والی اس گیس سے کراچی کی بندرگاہ پر واقع پاکستان انٹرنیشنل کینٹینر ٹرمینل کے قریبی علاقوں یعنی کیماڑی، مختلف جزائر اور ساحلی پٹی پر رہنے والوں میں تشویش کی لہر دوڑی ہوئی تھی جس سے ہر عمر کے لوگ متاثر ہو رہے تھے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ رئیر ایڈمرل ریٹائرڈ جمیل اختر یہ بیانات دے چکے ہیں ہیں کہ بندرگاہ سے زہریلی گیس کے اخراج کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG