رسائی کے لنکس

logo-print

اسپین: لیبر قوانین میں اصلاحات کے خلاف 24 گھنٹے کی ہڑتال


اسپین کے کارکن حکومت کی جانب سے لیبر قوانین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور کفایت شعاری کے سخت اقدامات کے خلاف، جس کا اعلان جمعے کو ہوگا، 24 گھنٹے کی ایک بڑی ہڑتال پر ہیں ۔

جمعرات کو میڈرڈ میں ہونے والے مظاہروں نے پبلک ٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں کا نظام درہم برہم کرکے رکھ دیا اور اس ہڑتال سے اندرون اور بیرون ملک پروازوں میں نمایاں کمی کرنا پڑی۔

وزارت داخلہ نے کہاہے کہ کم ازکم 58 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر اکثر پر یہ الزام ہے کہ بس سروس کو روکنے کی کوشش کررہے تھے ۔ جھڑپوں میں نو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔

اسپین کی مزدور یونینز قدامت پسند حکومت کے وزیراعظم ماریانو راجائے کی جانب سے لیبر قوانین میں کئی گئی تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت کمپنیوں کے لیے مزوروں کو نکالنا اور ان کی تنخواہوں میں کمی کرنا آسان ہوگیا ہے۔

کئی مظاہرین مزدور اصلاحات نامنظور کے بینر اٹھائے ہوئے تھے ۔ ریلوے میں کام کرنے والے ایک مزور کا کہناتھا کہ نئے قوانین سے مالکوں کو مزدوروں پر غیر منصفانہ فوائد حاصل ہوگئے ہیں۔

اسپین کی معیشت 2009ء کے بعد دوسری کساد بازاری سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہی ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 23 فی صد تک پہنچ چکی ہے جو 27 ملکی تنظیم یورپی یونین میں سب سے بلند ہے۔

اسپین کی حکومت پر اپنے یورپی ہمسایوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا دباؤ ہے کہ وہ قرضوں کے اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے اخراجات میں مزید کفایت کرے۔

جمعے کے روز حکومت اپنے 2012ء کے بجٹ میں اربوں ڈالر کی مزید کٹوتیوں کا اعلان کرنے والی ہے۔

XS
SM
MD
LG