رسائی کے لنکس

logo-print

اسپین کا تارکینِ وطن کے جہاز کا خیر مقدم


اسپین ریڈ کراس کا ایک رکن ایک تارکین وطن کو مدد فراہم کرتے ہوئے

مختلف زبانوں میں لکھے ہوئے"گھر میں خوش آمدید" کے الفاظ کے ساتھ ان تارکین وطن کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

اٹلی کے بحری محافظوں کا ایک جہاز جس پر تارکین وطن سوار تھے اسپین کے ویلنشیا شہر کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر وتھ آوٹ بارڈرز کی ایکویرئس نامی کشتی نے گزشتہ اختتام ہفتہ لیبیا کے ساحل کے قریب سے ان تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچایا تھا اور اب یہ جہاز متوقع طور اٹلی کے محافظوں کی ایک دوسری کشتی کے ساتھ تارکین وطن کے ساتھ یہاں پہنچے گا۔

مختلف زبانوں میں لکھے ہوئے"گھر میں خوش آمدید" کے الفاظ کے ساتھ ان تارکین وطن کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن "تھکے ماندے اور دباؤ کا شکار ہیں"۔

ویلنشیا کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایکویرئس بحری جہاز پر سوار تارکین وطن میں 450 مرد اور 80 خواتین شامل ہیں جن میں سے سات خواتین حاملہ ہیں۔ ان میں 11 ایسے بچے بھی ہیں جن کی عمریں 13 سال سے کم ہے جب کہ 89 نو عمر ہیں۔

اسپین کے نئے وزیر اعظم پیدرو سنچت نے کہا کہ "ایک انسانی المیہ کو روکنے میں مدد کرنا اور انسانی حقوق کے تحت ان لوگوں کو ایک محفوظ بندرگاہ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔"

ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل الحاج اسائی نے ہفتے کو ویلنشیا میں کہا کہ "لوگ مدد اور یکجہتی کی یورپی اقدار کے لیے یورپ آ ر ہے ہیں۔" اس سے کم (سلوک) یورپ ( کی اقدار) سے بے وفائی ہو گی۔

ویلنشیا کے مئیر نے کہا کہ اٹلی کے طرف سے ایکویرئس جہاز کو قبول نا کرنا غیر انسانی اقدام ہے۔

ان تارکین وطن کی مدد کے لیے 2,320 افراد پر مشتمل ٹیم کو متحرک کر دیا گیا ہے جس میں ریڈ کراس کے ایک ہزار رضاکار بھی شامل ہیں۔

اٹلی اور مالٹا کی طرف سے ان تارکین وطن کے جہاز کو قبول کرنے سے انکار کے بعد اسپن نے ان تارکین وطن کا اپنی بندرگاہوں پرخیر مقدم کرنے کی پیش کش کی تھی۔

وزیر خاجہ جوزف بورل نے کہا کہ سپین کی پیشکش ایک "سیاسی اشارہ " تھی تاکہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے یورپ ایک مشترکہ پالیسی وضح کر سکے۔

ڈاکٹر زوتھ آؤٹ بارڈز کے صدر ڈیوڈ نویرا نے ہفتے کو یورپی ملکوں سے تارکین وطن سے متعلق ایک نئی پالیسی وضح کرنے کا کہا تھا تاکہ بحیرہ روم میں پیش آنے والے اس طرح کے بحران کے دوبارہ ہونے سے بچا جا سکے۔

اسین کی حکومت نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ فرانس ان تارکین وطن میں سے ان افراد کو قبول کرے گا جو وہاں جانے کے متمنی ہیں اور وہ وہاں پناہ کے لیے فرانس کے طے کردہ معیار پر پورے اترتے ہیں۔

اسپین کے وزیر اعظم نےفرانس کے صدر ایمینوئل میخواں کی مدد کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھے ہیں کہ یہ تارکین وطن کے معاملے سے نمٹنے کے لیے تعاون کے طریقہ کار کے لیے" یہ ایک مثال بن سکتا ہے۔''

اسپین کے ساحلی محافظوں نے جمعے اور ہفتے کے روز بحیرہ روم میں 930 غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے اور چار کی لاشیں برآمد کر لی ہیں۔

یورپی یونین کے رہنما ایک اجلاس میں اکھٹے ہوں گے اور متوقع طور پر اس میں تارکین وطن سے متعلق (پالیسی) میں اصلاح کرنے کا معاملہ ایک بڑا موضوع ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG