رسائی کے لنکس

logo-print

اسپین کی اسپیشل فورسز میں خواتین نے ڈیوٹی سنبھال لی


فائل فوٹو

اسپین کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ وہ غیر روایتی جنگ اور دہشت گردی سے مقابلے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر اسپیشل فورسز کے دستوں میں خواتین کی تعداد بڑھا رہی ہے۔

وزیر دفاع مارگاریٹا روبلس کا کہنا ہے کہ خصوصی دستوں میں خواتین کی تعداد اس لیے بڑھائی جا رہی ہے، کیونکہ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کے علاقوں میں خواتین کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور نیٹو کی قیادت کے مشنز میں عربی بولنے والی خواتین کی ضرورت زیادہ ہے، جنہیں عراق اور لیبیا جیسے علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے۔

رباسا میں قائم کمانڈ سینٹر کے معائنے کے دوران وزیر دفاع نے ایک مشق دیکھی جس میں دہشت گردوں کے ایک احاطے پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

مسز روبلس نے بتایا کہ فوج میں کئی کام اب صرف خواتین کو تفویض کیے جا رہے ہیں جن میں چیک پوانٹس پر خواتین کی جانچ پڑتال اور خواتین سے تفتیش وغیرہ؛ کیونکہ کئی ملکوں میں خواتین غیر ملکی مردوں سے بات نہیں کرتیں اور ان کے معاشروں میں اسے برا سمجھا جاتا ہے۔

اسپین نے 1999 میں اپنی فوج کے دروازے خواتین کے لیے کھولے تھے۔ اس وقت سے فوجی یونٹوں میں خواتین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جو اب 12.7 فی صد تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد نیٹو میں خواتین کی تعداد سے زیادہ ہے۔ نیٹو میں خواتین کی تعداد گیارہ فی صد سے کچھ ہی زیادہ ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسپین کی فوج میں اس وقت لگ بھگ 15300 خواتین اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG