رسائی کے لنکس

logo-print

بدعنوانی کے الزامات کے بعد سپانسرز کے ’فیفا‘ سے متعلق خدشات


ایشین فٹبال کنفڈریشن نے جمعرات کو کہا کہ فیفا کے صدر کے انتخاب کے لیے جمعے کو الیکشن طے شدہ شیڈول کے مطابق ہونا چاہیئے اور وہ موجودہ صدر سیپ بلیٹر کی حمایت کرتی ہے۔

امریکہ اور سوئٹزرلینڈ کی جانب سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد سپانسرز نے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا سے تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اس کی علاقائی فیڈریشنز اس کے سربراہ کے مستقبل پر بحث کر رہی ہیں۔

کریڈٹ کارڈ کمپنی ’ویزا‘ نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے بدھ کو فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد سب سے زیادہ سخت بیان دیا۔ فرد جرم میں 14 افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں، وائر فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات شامل ہیں۔

ویزا نے ’’گہری‘‘ مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کی عدم موجودگی میں کمپنی فیفا کی سپانسرشپ کا ازسر نو جائزہ لے گی۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سپانسر کے طور پر ہم فیفا سے توقع کرتے ہیں کہ وہ تنظیم میں اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور تیز اقدامات کرے۔ اس کا آغاز مضبوط اخلاقی طرز عمل کی ثقافت قائم کرنے سے ہو گا تاکہ ہر جگہ اس کھیل کے شائقین کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔‘‘

مشروب بنانے والی کمپنی کوکا کولا نے بھی کہا ہے کہ اس نے بدعنوانی کے الزامات پر بارہا اپنی تشویش کا اظہار کیا اور وہ توقع کرتی ہے کہ فیفا ان مسائل کا جامع حل تلاش کرے گی جبکہ ایڈیڈاس نے کہا کہ فیفا کو ’’ہر کام میں شفاف تعمیلی معیارات کی پاسداری کرنی چاہیئے۔‘‘

دریں اثنا، ایشین فٹبال کنفڈریشن نے جمعرات کو کہا کہ فیفا کے صدر کے انتخاب کے لیے جمعے کو الیکشن طے شدہ شیڈول کے مطابق ہونا چاہیئے اور وہ موجودہ صدر سیپ بلیٹر کی حمایت کرتی ہے۔

بلیٹر اردن کے شہزادے علی بن الحسن کے خلاف پانچویں مرتبہ فیفا کے صدر منتخب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یورپی فیڈریشن نے صدر کے انتخاب کو چھ ماہ کے لیے ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’فیفا میں قیادت کی تبدیلی کی سخت ضرورت ہے۔‘‘

بلیٹر فیفا کے ان موجودہ اور سابقہ نو اعلیٰ عہدیداروں کی فہرست میں شامل نہیں جن پر بدھ کو فرد جرم عائد کی گئی۔ انہوں نے اپنا علیحدہ بیان جاری کیا جس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جو افراد غلط طرز عمل میں ملوث ہوئے انہیں اس ’’کھیل سے باہر نکال دیا جائے گا۔‘‘

امریکہ کی تحقیقات کا دائرہ کار 1991 تک جاتا ہے جس میں یہ الزامات بھی شامل ہیں کہ سپورٹس میڈیا کے افسران نے ٹورنامنٹوں کے مارکیٹنگ حقوق حاصل کرنے کے لیے 15 کروڑ ڈالر ادا کیے یا اس پر رضامندی کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ فرد جرم میں2011 میں ہونے والے فیفا کے صدارتی انتخابات میں بدعنوانی اور کھیلوں کا لباس بنانے والی ایک امریکی کمپنی کی برازیل سوکر فیڈریشن کی سپانسرشپ کے متعلق الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

حکام نے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ سے بدھ کو سات افراد کو گرفتار کیا، جبکہ ایف بی آئی نے امریکہ کے شہر میامی میں شمالی اور وسطی امریکہ کی نگران علاقائی تنظیم کے دفاتر پر چھاپہ مارا۔

امریکہ کی اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ نے ان الزامات کو ’’وسیع، منظم اور گہری جڑیں رکھنے والی‘‘ بدعنوانی قرار دیا جس سے ’’کثیر تعداد میں لوگوں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔‘‘

XS
SM
MD
LG