رسائی کے لنکس

سری لنکن کرکٹ ٹیم پاکستان آنے پر رضامند


سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اکتوبر یا نومبر میں اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے دوران تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔ سری لنکن بورڈ نے ایک میچ لاہور میں کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے امکانات روشن ہو گئے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے 8 سال بعد اپنی ٹیم کے دورہ پاکستان کی منظوری دے دی ہے۔

دوسری جانب کراچی کے میئروسیم اخترنے کرکٹ بورڈ سے درخواست کی ہے کہ سری لنکا, پاکستان ٹی 20 کا ایک میچ کراچی میں کرایا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میچ کے لئے رینجرز اور پولیس کی مدد سے فول پروف سیکورٹی پلان ترتیب دیا جائے گا۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ نے اکتوبر یا نومبر میں اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہےجس دوران تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے۔ سری لنکن بورڈ نے ایک میچ لاہور میں کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

سن 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کر کٹ تعطل کا شکار ہو گئی تھی۔ حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 8 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس عرصے میں صرف زمبابوے کی ٹیم 2015ء میں پاکستان آئی اور پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کے تمام میچز لاہور میں کھیلے گئے۔

پی سی بی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ دورہ حتمی ہونے کے بعد پی سی بی ان میچوں کے مقام کا تعین کرے گا کہ میچز لاہور کے علاوہ کن کن شہروں میں کرائے جائیں۔

ادھر ایشین کرکٹ کونسل کے کولمبو اجلاس کے دوران بات چیت کرتے ہوئے سری لنکن کرکٹ(ایس ایل سی) کے صدر تھلنگا سوماتھی پالا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ٹیم پاکستان لے جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہمارے سیکورٹی ماہرین نے پاکستان جاکر صورتحال کاجائزہ لیاہے۔ خصوصاً لاہور میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، سری لنکن ٹیم ستمبر میں پاکستان کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گی، ہم چاہیں گے کہ کم از کم ایک میچ لاہور میں کھیلیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کے دوران لندن میں حملے ہوئے لیکن آئی سی سی کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی کے بعد میچز جاری رہے، اسی طرح ہمیں ایشین کرکٹ فیملی کی حیثیت سے رکن ممالک کو سپورٹ کرنا چاہئے۔

سوماتھی پالا کا کہنا ہے کہ جب سری لنکا دہشت گردی کا شکار تھا تو وہاں کوئی ٹیم نہیں آنا چاہتی تھی تاہم اس وقت پاکستان اور بھارت نے ہمارا ساتھ دیا۔

سوماتھی پالا کے اس بیان کے باوجود پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے متعلق سری لنکن کرکٹرز کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ لاہور حملے کے وقت سری لنکن ٹیم کے کھلاڑیوں میں صرف چمارا کاپوگیدرا کے ٹی 20 اسکواڈ میں شمولیت کا امکان ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں نے تو صرف سینئرز پلیئرز سے ہی اس حملے کے بارے میں سنا ہو گا جن میں بعض کو اس حوالے سے تحفظات ہوں گے۔

پی سی بی کے چیئرمن نجم سیٹھی نے کرکٹ ویب سائٹ’’ کرک انفو‘‘ کو انٹرویو میں کہا کہ ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن ملاقات میں اس حوالےسے سودمند بات چیت ہوئی ہے اور اب سری لنکن ٹیم کی مہمان نوازی کی تیاریاں شروع کریں گے۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لئے ہماری کوششوں کی حمایت پر مشکور ہیں، ہم اکتوبر میں لاہور میں ٹی ٹوئنٹی میچ کی تیاریاں شروع کریں گے۔ ایک دفعہ سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کر لیا تو دوسری ٹیموں کے لئے بھی دورہ پاکستان کی راہ ہموار ہو گی۔

سری لنکا کی ٹیم کب پاکستان کا دورہ کرے گی، اس کا انحصار پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان سیریز پر ہے، کیونکہ ورلڈ الیون کا ستمبر 10 سے 16 تک مجوزہ دورہ 17 ستمبر کو لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے باعث غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس حوالے سے حکومت پنجاب نے پی سی بی حکام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں۔

پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون کے دورے کی تاریخوں کا انحصار صوبے کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی اجازت پر ہے، وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سیریز کی میزبانی کے لئے پرعزم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG