رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ایمرجنسی اٹھانے پر زور


سری لنکا کے کاندی کے علاقے میں فسادات کے بعد فوجی دستے تعینات ہیں۔ 6 مارچ 2017

سری لنکا میں بودھ نسل سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے گروہ کے مسلم اقلیت پر حملوں کے بعد ملک میں بدستور ایمرجینسی نفاذ ہے۔ جب کہ امریکی سفارت خانے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ایمرجینسی کا خاتمہ کرے۔

صدر میتھری پالا سری سینا نے منگل کے روز ملک کی اکثریتی سنہالی آبادی کے ایک ہجوم کے ہاتھوں کاندی کے علاقے میں کئی مساجد، مسلمانوں کی دکانوں اور کاروباروں پر حملوں کے بعد ایمرجینسی نافذ کر دی تھی۔

ایک مسلم خاندان کی چھوٹی سی دکان کو آگ لگائے جانے کے بعد شعلوں میں گھر جانے والے ان کے نوجوان بیٹے کی جھلسی ہوئی نعش منگل کے روز آگ بجھانے والے عملے کو مل گئی۔

کاندی کے علاقے میں فساد اور افراتفری کی صورت حال ہفتے کے روز وہاں ایک سنہالی ٹرک ڈرائیور کے نوجوان مسلمانوں کے ایک گروپ کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد پیدا ہوئی۔ ٹرک ڈرائیور اگلے روز زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔

فسادات سے متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی اہل کار پہرہ دے رہے ہیں۔ 6 مارچ 2018
فسادات سے متاثرہ علاقے میں سیکیورٹی اہل کار پہرہ دے رہے ہیں۔ 6 مارچ 2018

سن 2009 میں 36 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے ، جب سرکاری فورسز نے اپنے لیے آزاد ملک کا مطالبہ کرنے والے نسلی گروپ تامل کی بغاوت کو کچل دیا تھا، سری لنکا بدستور مذہبی اور نسلی بنیادوں پر منقسم ہے۔

سخت گیر قوم پرست بودھ سنہالیوں نے مسلمانوں پر مقدس بودھ مقامات پر حملے کرنے اور اسلام قبول کرنے کے لیے لوگوں پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔

سری لنکا کے وزیر اعظم رانیل وکریمی سنگھا نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں نسل پرستی اور تشدد کی مذمت کی ہے۔

کولمبو میں امریکی سفارت خانے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تیزی سے فسادات کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرے اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کو یقینی بنائے۔ سفارت خانے نے جلد از جلد ایمرجینسی اٹھانے پر بھی زور دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG