رسائی کے لنکس

logo-print

خود کش حملوں کا داعش سے تعلق ہو سکتا ہے: سری لنکا


ایک مشتبہ حملہ آور سینٹ سباشئن چرچ میں داخل ہو رہا ہے

سری لنکا کے وزیر اعظم رنیل وکرما سنگھے نے کہا ہے کہ 'ایسٹر سنڈے' کے دن ہونے والے خودکش حملے، جن کے نتیجے میں ملک شدید صدمے سے دو چار ہوا، ان کا داعش سے تعلق ہو سکتا ہے، جس کی ذمے داری دولت اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔
ایک اور اہلکار نے عندیہ دیا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ بم حملے نیوزی لینڈ کی مسجد پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہوں۔
منگل کے روز سری لنکا میں 'قومی یوم سوگ' منایا گیا، جن تباہ کُن حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 321 ہو گئی ہے۔
دھماکوں کا ہدف چار ہوٹل اور تین معروف گرجا گھر بنے، جس کا نشانہ سیاح اور مسیحی عبادت گزار تھے۔
ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، رنیل وکرما سنگھے نے کہا ہے کہ ''ہم داعش کے اس دعوے کا جائزہ لیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں صداقت ہو سکتی ہے''۔

اس سے قبل، سری لنکا کے نائب وزیر دفاع رووان وجے وردنے نے منگل کے روز کہا ہے کہ سری لنکا میں مسیحیوں کے مذہبی تہوار ’ایسٹر‘ کے موقع پر ہلاکت خیز دھماکے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر ہونے والے حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کیے گئے۔

321 ہلاکتوں کی وجہ بننے والے ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ داعش نے یہ دعویٰ اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کیا ہے۔ ؎

اس سے پہلے سری لنکا کے حکام کا کہنا تھا کہ ان حملوں کی ذمہ داری دو ایسی مقامی اسلامی تنظیموں نے قبول کی تھی جن کے بیرونی دہشت گرد تنظیموں سے رابطے تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان دو مقامی تنظیموں کے نام 'قومی توحید جماعت' اور 'جمیعت الملت ابراہیم' ہیں۔

یہ دھماکے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں واقع تین گرجا گھروں اور چار ہوٹلوں میں کیے گئے۔ دھماکوں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے علاوہ 500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

سری لنکا کے نائب وزیر دفاع وجے وردنے نے سری لنکا کی پارلیمنٹ میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سات خود کش حملہ آوروں کی طرف سے کیے جانے والے یہ حملے کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 15 مارچ کے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں، جس میں ایک واحد مسلح شخص نے 50 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

داعش کی طرف سے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے امریکہ کے انٹیلی جینس ذرائع کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں داعش کے واضح نشانات پائے جاتے ہیں۔

آج منگل کے روز سری لنکن حکومت اور فوجی ذرائع نے تصدیق کی کہ حملے کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے 40 مشتبہ افراد میں شام کا ایک شہری بھی شامل ہے جسے مقامی مشتبہ افراد کے ساتھ پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا گیا۔

تدفین

سری لنکا کی حکومت نے آج منگل کو 'یوم سوگ' قرار دیا اور اس دوران ہلاک ہونے والے متعدد افراد کی تدفین کی گئی۔ حملے میں ہلاک ہونے والے 321 افراد کی اکثریت سری لنکا کے شہریوں کی ہے۔ تاہم، سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 38 غیر ملکی بھی تھے جن کا تعلق امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ترکی، بھارت، چین، ڈنمارک، ہالینڈ اور پرتگال سے تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این سی ایف' کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں 45 بچے بھی شامل تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG