رسائی کے لنکس

logo-print

ظہران ہاشم نے جنوبی ہند میں خاصا وقت گزارا تھا: سری لنکا کے اہلکار کا بیان


کولمبو، سینٹ اینتھونی چرچ

سری لنکا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ اتوار کو ہونے والے دھماکوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ، ظہران ہاشم کافی عرصے تک ہندوستان کے جنوبی علاقے میں مقیم رہا تھا۔ ظہران ہاشم 'نیشنل توحید جماعت' نامی تنظیم کا سربراہ تھا، جو سری لنکا کے حکام کے بقول، ’’حملوں میں ملوث ہے‘‘۔

ایک انگریزی روزنامے ’دِی ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ظہران ہاشم ’نیشنل توحید جماعت‘ کا رہنما ہے۔

حملوں کے دو روز بعد اسلامک اسٹیٹ نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور آٹھ مشتبہ حملہ آوروں کی تصویر جاری کی تھی۔ تصویر کے درمیان میں جو شخص کھڑا نظر آتا ہے اسے ہی ظہران ہاشم سمجھا جا رہا ہے، جب کہ دیگر جہادیوں کے چہرے نقابوں میں ہیں۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ظہران کے جنوبی ہند کے دورے سے متعلق بیان تاحال نہیں آیا۔ البتہ، حکومتی ذرائع نے ایک ہند نژاد شخص سے اس کے تعلق کی طرف اشارہ کیا ہے۔

سری لنکا کے تحقیق کار ظہران کے فیس بک کے 100سے زائد ’فولوورز‘ سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم، ’فورم فور سول رائٹس‘ کے چیرمین اور اسلامک اسٹیٹ کے طریقہٴ کار پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار، سید منصور آغا نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے مذکورہ خبر پر شبہات کا اظہار کیا اور اسے ’فیک نیوز‘ قرار دیا۔

بقول اُن کے، ’’ہمارے وزیر داخلہ کہہ چکے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں سے اسلامک اسٹیٹ کا کوئی لنک نہیں ہے؛ تو ہم یہ کیسے مان لیں کہ ایک آدمی آیا اور دو سال کے اندر اسلامک اسٹیٹ کا اتنا بڑا دہشت گرد بن کے یہاں سے نکل گیا۔ یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے‘‘۔

اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنوبی ہند میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو اتحاد ہے انتخابات کے دوران اسے کمزور کرنے کے مقصد سے ایسی چیزیں پھیلائی جا رہی ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’اسلامک اسٹیٹ کا وجود ہے تو ایسا کیسے ہوا۔ اس کا سری لنکا پر حملہ کرنے کا کیا مفاد ہو سکتا ہے‘‘۔

سید منصور آغا کے مطابق، یہ عمل ’’ویسے ہی کسی نے ہندوستان میں ہونے والے انتخابات کے دوران مسیحیوں اور مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کی غرض سے کیا ہے۔ کسی نے ’فیک نیوز‘ دی ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلا دی ہے، جس کی کوئی تصدیق نہیں۔ پھر یہ کہ جن حوالوں سے یہ خبر آئی ہے اُنھوں نے متعین طریقے سے کچھ نہیں کہا‘‘۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ایک سے زائد بار یہ بیان دے چکے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کا اسلامک اسٹیٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم، جنوبی ہند کے چند ایک مسلمانوں کو اسلامک اسٹیٹ سے روابط کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG