رسائی کے لنکس

logo-print

'سری لنکا دھماکوں میں بین الاقوامی نیٹ ورک کی مدد حاصل تھی'


سری لنکا میں حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو ایسٹر کے موقع پر متعدد بم دھماکے مقامی شدت پسند گروپ کے سات خودکش حملہ آوروں نے کیے ہیں جنہیں بین الاقوامی نیٹ ورک کی مدد حاصل تھی۔

حکام نے پیر کے روز بتایا کہ اس حملے کی تحقیقات کے لئے پولیس اور فوج کو ہنگامی نوعیت کے اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ مشتبہ افراد کو عدالتی احکام کے بغیر گرفتار کر کے اُن سے پوچھ گچھ کی جا سکے۔

اتوار کے ان دھماکوں میں 290 افراد ہلاک ہوئے اور 500 افراد زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 30 غیر ملکی بھی شامل ہیں جن کا تعلق امریکہ، برطانیہ، چین، ترکی اور انڈیا سمیت مختلف ممالک سے ہے۔

ان دھماکوں میں چار پاکستانی شہری معمولی زخمی ہوئے تھے۔

پیر کو سری لنکا کے حکام کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں مقامی شدت پسند تنظیم ملوث ہے لیکن تاحال کسی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

’حملوں کی خفیہ اطلاعات موجود تھیں‘

وزیر صحت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام خودکش حملہ آور سری لنکن شہری ہیں لیکن ان حملوں میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے پاس ان دھماکوں کے بارے میں معلومات موجود تھیں لیکن ان کو روکا نہیں جا سکا۔ تحقیقات کے دوران ان اُمور کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ پیشگی انٹیلی جینس معلومات کے باوجود بروقت کارروائی کیوں نہیں کی جا سکی۔

ایک مقامی افسر نے بتایا ہے کہ کولمبو کے ایئر پورٹ کے قریب بھی ایک بم کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔

دھماکوں کے بعد جاری تحقیقات میں اب تک 13 افراد کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

اتوار کو ایسٹر کے موقع پر سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سمیت مختلف علاقوں میں چرچ اور پرتعیش ہوٹلوں میں آٹھ دھماکے کیے گئے۔

مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8:45 پر چھ دھماکے ہوئے اور بظاہر منظم انداز میں ہونے والے دھماکے زیادہ ہلاکتوں کا سبب بنے جب کہ دو مزید دھماکے چند گھنٹوں کے بعد ہوئے۔

ملک میں نافذ کرفیو ختم کر دیا گیا ہے جب کہ اسکول بند ہیں۔

سری لنکا کے وزیر مواصلات ہیرن فرنینڈو نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ حساس اداروں کے پاس ممکنہ حملوں کی اطلاعات تھیں تو بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معلومات زبان زدعام تھیں یہاں تک میرے والد نے مجھے عوامی مقامات اور چرچ جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی تھی۔

وزیر برائے قومی اتحاد منو گنیشن کے مطابق سیکورٹی اداروں نے میری وزارت کے اہل کاروں کو وارننگ دی تھی کہ دو خود کش حملہ آور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

سری لنکا کے وزیر دفاع روان وجے وردھنے نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی کے پیچھے مذہبی انتہا پسند ہیں اور اس ضمن میں 13 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق زیادہ تر دھماکے خود کش تھے تاہم کسی کی جانب سے باضابطہ طور پر دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کو دس سال قبل ختم ہونے والی خانہ جنگی کے بعد دہشت گردی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

فضا سوگوار

پیر کو کولمبو سمیت ملک کے دیگر شہروں میں فضا سوگوار رہی جبکہ مرکزی شاہراہیں سنسان اور کاروباری مراکز بھی بند رہے۔

کولمبو شہر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی اہل کاروں اور پولیس کا گشت جاری ہے۔

دھماکوں کے بعد ملک میں جعلی خبروں اور افواہوں کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کی موبائل اپلیکشنز بند کر دی گئی تھیں جو اب تک بحال نہیں ہو سکیں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے سری لنکا میں مزید حملوں کی وارننگ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو سفری ہدایات نامہ جاری کیا ہے جس میں انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشت گرد سری لنکا میں ہوٹلز، کاروباری مراکز اور عوامی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دھماکوں کے زخمی ہونے والے افراد کا سری لنکا کے مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG